پہلی جماعت سے ہی مصنوعی ذہانت کی تعلیم دینے کا فیصلہ

   

ریاضی کے مضامین میں شمولیت نصاب کی تیاری تک کتابوں کی اشاعت مسدود
حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : حکومت نے ریاست میں پہلی جماعت سے ہی طلبہ کو مصنوعی ذہانت (AI) کے بارے میں تعلیم دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آئندہ تعلیمی سال سے پہلی تا 9 ویں جماعت تک ریاضی میں AI کو بطور مضمون شامل کرنے کے لیے اقدامات کئے جارہے ۔ پہلی تا پانچویں جماعت تک 2 تا 3 صفحات چھٹویں تا نویں جماعت تک 4-5 صفحات پر مشتمل نصاب ہوگا ۔ اسکول ایجوکیشن کے ایڈیشنل ڈائرکٹر اور (ایس سی ای آر ٹی ) مضامین کے ماہرین کے ساتھ AI نصاب تیار کررہے ہیں ۔ توقع ہے کہ اندرون 15 تا 20 یوم نصاب تیار ہوجائے گا ۔ کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت کی اصلیت اس وقت کہاں استعمال ہورہی ہے اس کی چند مثالیں شامل کی جائیں گی ۔ واضح رہے کہ سی بی ایس ای نے تقریبا 4 سال قبل چھٹویں تا 12 ویں جماعت تک AI مضامین متعارف کرائے تھے۔ سرکاری اسکولس میں زیر تعلیم طلبہ کو مفت فراہم کی جانے والی نصابی کتاب کی چھپائی چند روز قبل شروع ہوئی تھی ۔ تاہم عہدیداروں نے 28 فروری کو زبانی احکامات جاری کرتے ہوئے اسے روکنے کا حکم دیا ہے ۔ AI اسباق کو شامل کرنے کے فیصلے کے ساتھ ریاضی کی کتابوں کی چھپائی روک دی گئی ۔ حال ہی میں حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے ۔ تلنگانہ شماریارتی رپورٹ ( اٹلس ) میں پرانی معلومات کو شائع کیا گیا جس کا ایک بار پھر مکمل جانچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس ترتیب سے دیگر کتابوں کی طباعت بھی روک دی گئی ۔ ایس سی ای آر ٹی کے عہدیداروں کی جانب سے جائزہ لینے کے بعد اس کو پرنٹ کیا جائے گا ۔ ریاضی کے مضامین میں ہی AI کے اسباق کو شامل کیا جارہا ہے ۔ حکومت ریاست میں تقریبا 22 لاکھ طلبہ میں مفت کتابیں تقسیم کرتی ہے ۔ ریاستی حکومت نے پہلے ہی سرکاری اسکولس میں معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے اور سیکھنے کے طریقوں کو بہتر بنانے کیلئے بنگلورو میں واقع Exstep فاونڈیشن کے ساتھ مل کر AI ٹولز اور پلیٹ فارم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔ 2