پہلی مرتبہ بھارت میں آج مذہبی تقریب کیلئے سرکاری تعطیل، وزیراعظم کی شرکت

,

   

l پہلی مرتبہ نامکمل تعمیر والی رام مندر کا افتتاح ، جنونی انداز میں تیاریاں ، سخت سیکوریٹی انتظامات
l پہلی مرتبہ سیکولر مملکت کے تانے بانے تارتار، ایودھیا میں پران پرتشتھاپروگرام کیلئے عام زندگی مفلوج
l پہلی مرتبہ مرکز کی مودی حکومت اور اترپردیش کی یوگی حکومت کا ایودھیا ایونٹ کیلئے غیرہندو شہریوں پر عملاً جبر
l پہلی مرتبہ ہندو مذہبی پروگرام کو سیاسی بنادینے پر کانگریس جیسی قدیم پارٹی کا ایونٹ میں شرکت سے گریز

نئی دہلی ؍ ایودھیا: بھارت سیکولر ملک ہے یعنی حکومت کا کوئی مذہب نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت ہند مذہبی عقیدوں کی منکر ہے بلکہ سیکولر مملکت کا مطلب یہ ہیکہ حکومت کی نظر میں تمام مذاہب اور اس کے ماننے والوں کا یکساں احترام ہے۔ بھارت میں 70 فیصد سے زیادہ آبادی ہندو برادری پر مشتمل ہے۔ اس کے باوجود 1950ء میں دستورہند کو قبول اور نافذ کرنے والے قائدین جیسے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر، پنڈت جواہر لال نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل، مولانا ابوالکلام آزاد و دیگر نے ہندو طرز زندگی جسے آج کل ہندوتوا کہا جارہا ہے یا کوئی اور مذہب کو حکومتی سطح پر خصوصی سرپرستی والا مذہب نہیں بنایا بلکہ واضح کیا کہ حکومتی سطح پر ہر شہری اور اس کے مذہبی عقیدہ کا یکساں احترام کیا جائے گا۔ تاہم بھارت کی تاریخ میں دوشنبہ 22 جنوری 2024ء کا دن منفی طور پر اس طرح محفوظ ہوجائے گا کہ اس روز بھارت کے سیکولر تانے بانے کو تار تار کرتے ہوئے وزیراعظمِ وقت نریندر مودی اور سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کی حکومتوں نے مخصوص ہندو مذہب کی جنونی انداز میں سرپرستی کرتے ہوئے ملک کے دیگر شہریوں پر اپنے مذہبی ایونٹ کو مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔ سپریم کورٹ کے راستے ایودھیا میں شہید بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کرنے کے بعد 22 جنوری کو وہاں ’’رام پرتشتھا‘‘ کے عنوان سے ایک ایونٹ برپا کیا جارہا ہے۔ سادہ طور پر کہا جائے تو وہاں رام مندر کی تعمیر ابھی مکمل نہیں ہوئی جسے کئی شنکراچاریہ بیان کرچکے ہیں، پھر بھی رام للا کی مورتی کی تنصیب عمل میں لاتے ہوئے مندر کا باضابطہ افتتاح کیا جارہا ہے۔ مرکزی حکومت نے اس کیلئے 22 جنوری کو نصف یوم کی چھٹی کا اعلان کردیا ہے جس کی متعدد بی جے پی اقتدار والی ریاستوں کے بشمول دیگر نے بھی تقلید کی ہے۔ رام للا کے پران پرتشتھا تقریب سے ایک دن قبل ایودھیا کو پوری طرح سے روشن کردیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ غیر ہندو شہریوں کو بھی دیئے جلانے کیلئے کہا جارہا ہے! ہندو مذہبی گروؤں و دیگر مہمانوں کی اس تقریب میں شرکت کیلئے آمد کا سلسلہ شروع ہوگیاہے ۔معروف شخصیات، فلم اسٹارس اور برسراقتدار بی جے پی کے سینئر قائدین کے پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوشنبہ کی تقریب کیلئے تقریبا 8ہزار مہمانوں کو مدعوکیا گیا ہے ۔ پران پرتشتھا تقریب کی قیادت وزیر اعظم نریندر مودی کریں گے اور وہی رام مندر میں رسومات کی ادائیگی کریں گے ۔ کئی ہفتوں سے جاری تشہیر کے ساتھ رام مندر کے افتتاح کی تقریب کی مہم پیر کو پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گی۔ یہ تقریب آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کی ہندی ریاستوں میں ووٹروں کو اپنی جانب مائل کرنے کی ایک حکمت عملی کے طور پر دیکھی جارہی ہے ۔ اصل اپوزیشن کانگریس پارٹی نے مندر کے افتتاح کو بی جے پی۔ آر ایس ایس کا پروگرام قرار دیا ہے اور پارٹی کے صدر ملکارجن کھرگے و سونیا گاندھی نے تقریب میں شرکت کرنے سے معذرت کرلی ہے۔ دیگر متعدد اپوزیشن قائدین نے بھی یہ کہتے ہوئے اس تقریب میں شرکت سے منع کردیا ہیکہ وہ 22جنوری کے بعد جب پوری طرح سے مندر بن کر تیار ہوجائے گی تو اپنے اہل خانہ کے ساتھ مندر کا درشن کریں گے ۔ بی جے پی نے عوام کو اس تقریب میں کسی نا کسی طرح شریک کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر رابطہ مہم چلائی ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے تنظیم کی ویب سائٹ پر شائع اپنے ایک مضمون میں ایودھیا میں رام مندر کے پران پرتشتھا کی تقریب کو بیداری قومی حمیت سے تعبیر کیا ہے۔