نئی کاشت مارکٹ میں آنے تک صورتحال برقرار رہے گی، تاجرین کا تاثر
حیدرآباد ۔ 12 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : ترکاریوں کی قیمتوں میں اچانک زبردست اضافہ ہوگیا ہے جس سے غریب و متوسط طبقہ پر اضافی مالی بوجھ عائد ہوگیا ہے۔ پہلے پیاز کی قیمت میں اضافہ سے عوام پریشان تھے ۔ اب ترکاری کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ریٹل مارکٹ میں 40 تا 45 روپئے فی کلو پیاز فروخت ہورہی ہے ۔ مہاراشٹرا سے پیاز کی سربراہی میں کمی کی وجہ سے پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ تلنگانہ میں ملک پیٹ اور آندھرا پردیش میں تاڑے پلی گڈم میں واقع پیاز کی مارکٹ سارے ملک میں مشہور ہے ۔ ان مارکٹس کو روزانہ شولا پور ، ناسک ، پونے ، احمد نگر ، سے کم از کم 450 ٹن پیاز سربراہ ہوتی ہے ۔ تاہم حالیہ دنوں میں پیاز کی سربراہی گھٹ کر روزانہ 240 ٹن تک محدود ہوگئی ہے جس کی وجہ سے گذشتہ ایک ہفتہ سے پیاز کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ ایک ہفتہ قبل ریٹل مارکٹ میں 20 تا 30 روپئے فی کلو پیاز فروخت ہورہی تھی اب اس کی قیمت بڑھ کر 50 تا 60 روپئے فی کلو ہوگئی ہے ۔ ایک ہفتہ تک اچھی پیاز 100 روپئے میں تین کلو فروخت ہورہی تھی ۔ اب یہی پیاز 40 تا 45 روپئے فی کلو فروخت ہورہی ہے ۔ علاوہ اس کے بقرعید ہونے کی وجہ سے پیاز کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ڈیمانڈ اور سربراہی میں فرق پیدا ہوجانے کی وجہ سے پیاز کی قیمتوں میں اضافہ ہوجانے کا تاجرین دعویٰ کررہے ہیں ۔ ترکاری کی قیمتوں میں اضافہ ہوجانے پر ایرہ گڈہ رعیتو بازار کے ای او رمیش نے اہم ریمارکس کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موسم برسات میں نئی کاشتکاری کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ہر ترکاری کی قیمت میں کم از کم 10 روپئے فی کلو اضافہ ہوگیا ہے ۔ مختلف اضلاع سے ریاست کو سربراہ ہونے والی ترکاری میں بھی کمی واقع ہوگئی ہے جس کی وجہ سے ترکاری کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ٹرانسپورٹ چارجس میں بھی اضافہ ہوجانے پر بھی اس کا اثر ترکاری کی قیمتوں پر دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ ترکاری میں قیمتوں کا اضافہ آئندہ ایک ماہ تک رہنے کا امکان ہے ۔ 2