پیان کارڈ کیس:اعظم خان اور عبداللہ اعظم کی مشکلات برقرار

,

   

نئی دہلی؍رام پور ۔ 20 اپریل ۔(ایجنسیز) سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے، سابق ایم ایل اے عبداللہ اعظم کو بڑا عدالتی جھٹکا لگا ہے۔ رام پور کی ایم پی۔ایم ایل اے سیشن کورٹ نے دونوں کی سزا کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دی ہیں، جس کے بعد فوری طور پر انہیں کسی راحت کی امید باقی نہیں رہی۔عدالتی فیصلے کے مطابق نچلی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا برقرار رہے گی، جس میں دونوں کو سات سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ایم پی-ایم ایل اے مجسٹریٹ کورٹ نے پیان کارڈ سے متعلق معاملے میں دونوں کو قصوروار قرار دیا تھا۔یہ پورا کیس سال 2019 سے جڑا ہوا ہے، جس کی شکایت بی جے پی لیڈر آکاش سکسینہ نے درج کرائی تھی۔ الزام کے مطابق عبداللہ اعظم نے مختلف تاریخ پیدائش کا استعمال کرتے ہوئے دو پیان کارڈ حاصل کیے تھے، جسے عدالت نے سنگین خلاف ورزی مانا۔تفتیش کے دوران اعظم خان کے کردار کو بھی شامل کیا گیا، جس کے بعد 17 نومبر 2025 کو ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے دونوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے سخت سزا سنائی۔ اس فیصلے کے خلاف 25 نومبر 2025 کو سیشن کورٹ میں اپیل دائر کی گئی، تاہم 20 اپریل 2026 کو عدالت نے اس اپیل کو بھی خارج کر دیا۔
فی الحال اعظم خان اور عبداللہ اعظم نومبر 2025 سے رام پور ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہیں اور موجودہ فیصلے کے بعد انہیں اپنی سزا جیل میں ہی کاٹنی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق دونوں کے وکلاء اب ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور جلد ہی وہاں اپیل دائر کیے جانے کا امکان ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ سماج وادی پارٹی کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ریاست میں مقامی سطح کی سیاست اور پنچایتی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔یاد رہے کہ اعظم خان کو ستمبر 2025 میں جیل سے رہائی ملی تھی، لیکن عدالتی کارروائی کے بعد محض 55 دن کے اندر، 18 نومبر 2025 کو انہیں دوبارہ جیل بھیج دیا گیا تھا، اور اب تازہ فیصلے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔