پیگاسس مقدمہ ،5 فونز میں مال ویرس ملے

   

نئی دہلی۔ پیگاسس سپائی ویر تنازعہ کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے مقررکردہ تکنیکی اور نگران کمیٹیوں نے کہا کہ مرکز نے تحقیقات میں تعاون نہیںکیا۔چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے جمعرات کو کہا کہ کمیٹی کو ان 29 فونز میں سے پانچ میں کسی نہ کسی قسم کے مالویر ملے جن کی جانچ کی گئی۔ عدالت اب اس معاملے کی چار ہفتے بعد سماعت کرے گی۔بنچ نے کہا کہ پینل نے اپنی طویل رپورٹ تین حصوں میں پیش کی ہے اور ایک حصے نے شہریوں کی رازداری کے حق اور ملک کی سائبر سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے قانون میں ترمیم کی تجویز دی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ نگران جج (ریٹائرڈ) آر وی رویندرن کی عمومی نوعیت کی رپورٹ اپنی ویب سائٹ پراپ لوڈ کریں گی۔ بنچ نے کہا کہ وہ فریقین کی اپیل پر غورکرے گا کہ وہ دوسری رپورٹ کا نظر ثانی شدہ حصہ دیں۔بنچ نے گزشتہ سال 27 اکتوبر کو سیاستدانوں، صحافیوں اور کارکنوں کی ٹارگٹ نگرانی کے لیے سرکاری ایجنسیوں کی جانب سے اسرائیلی اسپائی ویرپیگاسس کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔