تنظیم نے مودی کی پٹنہ ریالی پر حملہ کرنے کی سازش رچی تھی، ای ڈی کا دعویٰ
نئی دہلی : دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) دہلی یونٹ کے صدر پرویز احمد، جنرل سکریٹری محمد الیاس اور آفس سکریٹری عبدالمقیت کو پوچھ گچھ کے لیے سات دن کی تحویل میں دیا ہے۔پی ایف آئی کے قائدین پر مالی عطیات کی آڑ میں منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔تینوں ملزمین سے اب تک بر آمد ہونے والی دستاویزات کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔ اس کے گھر سے برآمد ہونے والے فون کا فارانسک معائنہ بھی اس کے سامنے کیا جانا ہے۔ ای ڈی ان ملزمین سے 7 دنوں میں پوچھ گچھ کرے گی۔ای ڈی نے جمعہ کو تینوں ملزمین کے ریمانڈ کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرویز احمد، جو 2018 تک دہلی پی ایف آئی کے صدر تھے۔وہ مجرمانہ سازش میں ملوث تھے۔ انہوں نے دہلی میں چندہ جمع کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ دوسری طرف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ایف آئی نے پٹنہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ریالی کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس کے لیے پی ایف آئی حساس مقامات پر حملے کرنے کے لیے دہشت گردوں کے ماڈیولز، مہلک ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کو جمع کرنے میں مصروف تھے۔ای ڈی نے جمعرات کو پی ایف آئی ممبر شفیق پیتھ کو کیرالہ سے گرفتار کیا تھا۔ شفیق پیتھ کے خلاف اپنے ریمانڈ نوٹ میں ای ڈی نے سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے کہ اس سال 12 جولائی کو وزیر اعظم نریندر مودی کے پٹنہ دورے کے دوران پی ایف آئی نے حملے کے لیے ایک تربیتی کیمپ کا اہتمام کیا تھا۔ ای ڈی کو پی ایف آئی کی طرف سے گزشتہ برسوں میں جمع کیے گئے 120 کروڑ روپے کی تفصیلات ملی ہیں۔ یہ رقم زیادہ تر نقد رقم میں جمع کی گئی تھی اور ملک بھر میں فسادات اور دہشت گردانہ کارروائیاں پھیلانے کے لیے کی گئی تھیں۔ ای ڈی نے جمعرات کو ملک بھر میں چھاپے مارے اور اس آئی اے اور سیکوریٹی فورسز کی مشترکہ کاروائی میں پی ایف آئی سے وابستہ 100 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیاہے۔ای ڈی نے پی ایف آئی کے تین دیگر عہدیداروں کو دہلی سے حراست میں لیا تھا۔ ان کے نام پرویز احمد، محمد الیاس اور عبدالمقیت ہیں۔ 2018 میں پی ایف آئی کے خلاف منی لانڈرنگ کی جانچ شروع ہونے کے بعد سے ای ڈی نے ان سبھی سے کئی بار پوچھ تاچھ کی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے شفیق پیتھ پر الزام لگایا ہے جو کبھی قطر میں مقیم تھا۔ ملک میں گڑبڑ پیدا کرنے کے لیے بیرون ملک سے اپنے این آر آئی اکاؤنٹ میں پی ایف آئی کو رقم بھیجا تھا۔ اس لیے اس نے اپنا این آر آئی اکاؤنٹ غیر قانونی طور پر استعمال کیا ہے۔ای ڈی کے مطابق ایجنسی کے ذریعہ پتھ کے احاطے پر گزشتہ سال چھاپہ مارا گیا تھا جب رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کاری اور اس کے بعد ان پیسوں کو پی ایف آئی میں منتقل کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔