چارمینار کے دامن میں ٹھیلہ بنڈی رانوں سے بھاری کرایہ وصولی

   

تاجرین سے مامول کی وصولی ، بڑے تاجرین بھی کرایہ وصول کرنے میں ملوث ، غریب ٹھیلہ بنڈی راں پریشان
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔8۔اکٹوبر۔حکومت رائے درگ میں 177 کروڑ میں فی ایکڑ اراضی کے ہراج کے ذریعہ شہرحیدرآباد کی ترقی اور اراضی کی اہمیت میں ہونے والے اضافہ کے متعلق تشہیر کر رہی ہے لیکن آج بھی تاریخی چارمینار کے دامن میں موجود ٹھیلہ بنڈی کی اراضی کی قیمت رائے درگ کی اس اراضی سے زیادہ ہے کیونکہ حالیہ دنوں میں چارمینار کے دامن میں ٹھیلہ بنڈی ٹھہرانے کیلئے کملیش نامی بہاری تاجر نے 18 لاکھ روپئے میں دو سال کے لئے رہن پر حاصل کی ہے ۔ تاریخی چارمینار کے دامن میں 1500 سے زائد ٹھیلہ بنڈی راں کاروبار کرتے ہیں اور اس کاروبار کے لئے وہ بھاری معمول ادا کیا کرتے ہیں اس بات کی شکایات بھی معمول کی بات بن چکی ہیں لیکن اب جو لوگ معمول وصول کرتے ہوئے تاریخی چارمینار کے دامن میں کاروبار کر رہے ہیں ان میں آشیش ‘ پون‘ نتیش‘ بھرت ‘ کملیش‘ بھرت اور گوتم شامل ہیں جو کہ چارمینار کے دامن میں کاروبار کرنے والوں سے مامول وصول کرتے ہوئے اپنی جگہ کرایہ پر دے رہے ہیں ۔ چارمینار کے دامن میں کاروبار کرنے والے ٹھیلہ بنڈی رانوں نے بتایا کہ 1500 سے زائد چھوٹے کاروباریوں میں بہار‘ بنگال ‘ اترپردیش کے علاوہ دیگر شمالی ہند کی ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ٹھیلہ بنڈی راں شامل ہیں جن کی تعداد 400 سے زائد ہوچکی ہے اور وہ اب مذکورہ افراد کی نگرانی میں کاروبار کرتے ہوئے چارمینار تا مکہ مسجد‘ چارمینار تا گلزار حوض ‘ چارمینار ٹریفک پولیس اسٹیشن کے علاوہ چارمینار کے اطراف کے علاقہ میں موجود جگہ کا باضابطہ کرایہ وصول کرتے ہوئے ان جگہوں کی فروخت کرنے لگے ہیں ۔ چارمینار کے دامن میں چھوٹے تاجرین کو کاروبار کے لئے مامول ادا کرنا پڑتا ہے اس بات سے کوئی انکار نہیں کرتا لیکن اس مامول کی وصولی کو روکنے کے ذمہ دار حکام اور عہدیدار خود ان معاملات میں ملوث ہیں اور اس سلسلہ میں متعلقہ منتخبہ عوامی نمائندوں سے مسلسل شکایات بھی کی جا رہی ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ ذرائع کے مطابق بہار‘ اترپردیش‘ بنگال اور دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو کملیش ‘ آشیش‘ نتیش ‘ پوون‘ گوتم وغیرہ کی سرپرستی حاصل ہے اور یہ چارمینار کے دامن میں موجود جگہ مقامی افراد سے حاصل کرتے ہوئے انہیں کرایہ ادا کرنے لگے ہیں۔ چارمینار کے دامن میں کاروبار کے لئے یومیہ جو مامول وصول کیا جاتا ہے وہ 600تا 1500 روپئے ہے جس میں سب کا حصہ ہوتا ہے اور یہ کرایہ کے نام پر معصوم تاجرین سے وصول کیا جاتا ہے اور ایسے 1500 سے زائد چھوٹے تاجرین ہیں جو کہ چھوٹے کاروبار کرنے کے لئے شہر کے اس حصہ میں یہ رقم ادا کر رہے ہیں۔ چارمینار کے دامن میں موجود تجارتی سرگرمیوں کے سلسلہ میں چھوٹے تاجرین نے بتایا کہ اب یہ سرگرمیاں مقامی بے روزگاروں سے نکل کر ان تاجرین کے ہاتھ میں جانے لگی ہیں جن کے بڑے کاروبار ہیں اور وہ بھاری رقومات ادا کرتے ہوئے اس تجارتی مرکز کے آس پاس یومیہ کرایہ کے اعتبار سے جگہ حاصل کرتے ہوئے مقامی نوجوانوں سے یہاں کاروبار کے لئے کرایہ وصول کرنے لگے ہیں علاوہ ازیں ایک مربع کیلو میٹر سے بھی کم رقبہ کے اس حصہ خطہ میں کاروبار کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ سلسلہ جاری…