چرلہ پلی جیل میں قید محمدعبدالباری قلب پر حملہ سے فوت

   

حیدرآباد ۔ 24 ستمبر (سیاست نیوز) ضلع نلگنڈہ کے مریال گوڑہ میں 2018ء میں بین مذہبی شادی کیخلاف قتل کئے گئے نوجوان پرنئے قتل کیس کا ملزم محمد عبدالباری جو چرلہ پلی جیل میں قید تھا، قلب پر حملہ ہونے سے فوت ہوگیا۔ پی پرنئے کمار جو دلت طبقہ سے تعلق رکھتا تھا نے وائشیا کاسٹ کی امروتہ نامی لڑکی سے شادی کی تھی جس کے خلاف لڑکی کے باپ پی ماروتی راؤ نے پرنئے کا کرایہ کے قاتلوں کے ذریعہ قتل کرایا تھا۔ اس کیس میں نلگنڈہ پولیس نے جملہ 8 ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس کیس میں گجرات کے سابقہ وزیرداخلہ ہرین پانڈیہ قتل کیس کے الزامات کے تحت سابق میں گرفتار کئے گئے اصغر علی اور محمد عبدالباری کو بھی ماخوذ کیا گیا تھا۔ محمد عبدالباری کو گرفتاری کے بعد چرلہ پلی جیل میں رکھا گیا تھا۔ نلگنڈہ پولیس نے اپنی چارج شیٹ میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ عبدالباری کلیدی ملزم ہے اور اس نے ایک کروڑ روپئے میں واردات انجام دینے کی سپاری (کنٹراکٹ) لڑکی کے باپ پی ماروتی راؤ سے معاملہ طئے کیا تھا جس کے تحت 15 لاکھ روپئے پیشگی رقم حاصل کی تھی۔ مارچ 2025ء میں ضلع نلگنڈہ کی خصوصی عدالت نے محمد عبدالباری کو عمرقید کی سزاء سنائی تھی ۔ جمعرات کی صبح اچانک قلب پر حملہ ہونے سے وہ فوت ہوگیا اور گاندھی ہاسپٹل میں بعد پوسٹ مارٹم نعش ورثاء کے حوالے کردی گئی۔ بH/