چمولی کے مسلمانوں کو علاقہ چھوڑنے شدت پسند گروپ کا الٹی میٹم!ہم واقف نہیں: پولیس کا عذر

   

نئی دہلی : اتراکھنڈ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ماحول میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اب چمولی ضلع میں کھنسر قصبے میں مقامی تاجرین کے گروپ نے 15 مسلم خاندانوں کو علاقہ سے بے دخل کردینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مسلم خاندانوں کو 31 دسمبر سے پہلے چلے جانے کی دھمکی دی جبکہ یہ خاندان کئی سالوں سے یہاں مقیم ہیں۔انتہاپسندوں کے گروپ کی ریلی کے بعد ایک میٹنگ ہندو تاجروں کی جانب سے اشتعال انگیز نعرے لگائے اور مسلم خاندانوں کو علاقہ سے چلے جانے کی دھمکی دی گئی۔ تاجرین کی تنظیم کے صدر وریندر سنگھ نے کہاکہ ’ہم نے قرارداد اتفاق رائے سے منظور کی کہ اگر یہ خاندان ڈیڈ لائن تک نہیں جاتے ہیں تو ان کے خلاف اور جو انہیں کرایہ پر دیتا ہے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ مالک مکان کو دس ہزار روپئے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔انہوں نے بتایا کہ کھنسر وادی کے گاؤں میں ہاکروں کے داخلے پر بھی پابندی ہوگی۔ کوئی ہاکر علاقہ میں پکڑا جائے گا تو اسے بھی دس ہزار روپئے جرمانہ ہو گا۔ مقامی مسلم افراد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں سے کوئی مجرمانہ واقعات میں ملوث نہیں ہے۔ یہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے اور کاروباری وجوہات کی بناء پر ہمیں باہر کرنے کی کوشش ہے‘۔ انہوں نے انتظامیہ سے ایسی شدت پسندی اور تاجرین کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔میڈیا کے مطابق چمولی پولیس سپرنٹنڈنٹ سرویش پنوار نے کہا کہ وہ اس قرارداد سے واقف نہیں تھے لیکن انہوں نے تحقیقات کا وعدہ کیا اور اگر ضرورت پڑی تو مناسب قانونی کارروائی کا تیقن دیا ۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ضلع میں امن اور ہم آہنگی کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
چمولی الٹی میٹم : اسد اویسی کی شدید تنقید
نئی دہلی: مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسد الدین اویسی نے مسلمانوں کے مسائل پر وزیر اعظم مودی کو پھر نشانہ بنایا ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو اچھوت بنا دیا گیا ہے۔اسد الدین اویسی نے دعویٰ کیا کہ اتراکھنڈ کے چمولی میں 15 مسلم خاندانوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔ تاجروں نے دھمکی دی کہ مسلمانوں کو 31 دسمبر تک چمولی چھوڑنا پڑیگا۔ اسد اویسی نے کہاکہ یہ وہی اتراکھنڈ ہے جہاں حکومت مساوات کے نام پر یکساں سول کوڈ نافذ کر رہی ہے۔ اگر وزیر اعظم عرب شیخوں کو گلے لگا سکتے ہیں تو وہ چمولی کے مسلمانوں کو بھی گلے لگا سکتے ہیں، مودی سعودی یا دبئی کے پی ایم نہیں؛بلکہ ہندوستان کے ہی پی ایم ہیں۔