چنچل گوڑہ جونئیر کالج و ہائی اسکول کی عمارت بوسیدہ ۔ بلدیہ نے داخلہ بند کردیا

   

شہر کا ایک قدیم اور معروف تعلیمی ادارہ انتہائی زبوں حالی کا شکار

حیدرآباد 17جولائی (سیاست نیوز) چنچل گوڑہ جونیئر کالج اور بوائز ہائی اسکول کی عمارت بوسیدہ ہوچکی ہے اور اس عمارت کا فوری تخلیہ کردیا جائے ‘ مخدوش عمارت میں رہنے والوں کیلئے یہ عمارت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے!جی ایچ ایم سی کے چنچل گوڑہ جونئیر کالج اور ہائی اسکول کی عمارت میں داخلہ کو روکنے کے فیصلہ سے پرنسپل جونیئر کالج خود واقف نہیں ہیں جبکہ محکمہ اسکولی تعلیم سے ہائی اسکول طلبہ کے لئے کلاسس کا پرائمری اسکول میں دوپہر کی شفٹ میں کلاسس کا اہتمام کیا جائے گا۔ جی ایچ ایم سی کی جانب سے تعلیمی ادارۂ جات کو تعطیلات کے دوران جاری کی گئی نوٹس اور عمارت کو مقفل کرنے کی کاروائی سے محکمہ تعلیم بالخصوص انٹرمیڈیٹ کے عہدیداروں بھی واقف نہیں ہیں اور جونیئر کالج کے طلبہ کیلئے تاحال کوئی متبادل انتظام نہیں کیا جاسکا ہے۔چنچل گوڑہ جونیئر کالج اور بوائز ہائی اسکول کی عمارت کے مخدوش ہونے کے سبب اس کو بلدیہ نے منہدم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلہ میں 12جولائی کو کالج کے باب الداخلہ پر ایک نوٹس چسپاں کرکے مطلع کیا گیا کہ یہ عمارت بوسیدہ ہے اور اس میں داخلہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ڈپٹی کمشنر سرکل 6 ملک پیٹ کی جاری نوٹس میں عمارت کا فوری تخلیہ کے احکام دئے گئے ہیں۔ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر مسٹر نہرو بابو نے بتایا کہ گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول کے طلبہ کو نو تعمیر شدہ پرائمری اسکول کی عمارت میں تعلیم کے اقدامات کئے جاچکے ہیں ۔ انہو ںنے بتایا کہ عمارت بوسیدہ ہونے کی اطلاع اور نوٹس ملنے کے بعد عہدیداروں سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پرائمری اسکول صبح کی شفٹ میں چلائی جائیگی اور دوپہر کی شفٹ میں ہائی اسکول طلبہ کو پڑھایا جائے گا۔ پرنسپل گورنمنٹ جونیئر کالج سے رابطہ پر انہوں نے بتایا کہ جونیئر کالج طلبہ کیلئے فوری کوئی متبادل انتظامات نہیں کئے گئے اور 18جولائی کو عہدیداروں سے مشاورت کے بعد کوئی فیصلہ کیا جائیگا۔ انہو ںنے کہا کہ عمارت کے تخلیہ کی نوٹس کے متعلق وہ واقف نہیں ہیں اور نہ اس بات سے واقف ہیں کہ عمارت میں داخلہ کی ممانعت کا کوئی بیانر نصب کیا گیا ہے۔ پرنسپل نے اعتراف کیا کہ عمارت مخدوش ہونے کے متعلق محکمہ تعلیم کو واقف کروایا جاچکا تھا لیکن گذشتہ ایک ہفتہ سے مسلسل بارش اور تعطیلات کے سبب انہیں اس کا علم نہیں کہ عمارت کی حالت کیا ہے۔ مقامی عوام کا کہناہے کہ چنچل گوڑہ جونیئر کالج اور بوائز ہائی اسکول عمارت کی چھت ٹپکنے کی شکایت کافی عرصہ سے تھیں لیکن کورونا لاک ڈاؤن اور تعلیمی سرگرمیوں کے مفلوج ہونے سے اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ جاریہ سال کے اوائل میں جونیئر کالج احاطہ میں ڈگری و جونیئر کالج کی نئی عمارت کیلئے حکومت نے منظوری دی اور کاموں کا سنگ بنیاد رکھا جاچکا ہے۔ جونیئر کالج طلبائے قدیم نے محکمہ تعلیم و محکمہ بلدی نظم ونسق سے اپیل کی کہ وہ نئی عمارتیں تعمیر کریں لیکن قدیم عمارت کی مرمت اور تزئین کے ذریعہ اسے محفوظ کیا جائے کیونکہ یہ شہر کے قدیم ترین تعلیمی اداروں میں شامل ہے۔م