نئی دہلی، 17 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ ملک بھر میں چھاتروں کی گونج مہم کے ذریعہ پارٹی طلبہ کی آواز بلند کر رہی ہے اور سرکار بننے پر اس مہم کے دوران طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں سے ملنے والی تجاویز کی بنیاد پر تعلیم میں اصلاحات کا انتخابی منشورتیار کیا جائے گا۔کانگریس کی طلبہ شاخ این ایس یو آئی کے انچارج کنہیا کمار اور یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چب نے جمعہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی گزشتہ کئی سال سے تعلیم میں اصلاحات کیلئے ، طلبہ کو حقوق دینے ، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے ، بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں اور امتحانی گھوٹالوں کے خلاف لگاتار عوامی تحریک چلا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے دورِ اقتدار میں تقریباً ہر بڑے امتحانات تنازعات میں رہے ہیں۔ بڑے پیمانے پر پیپر لیک ہوئے ہیں اور اس وجہ سے بھرتیاں منسوخ کی جا رہی ہیں ۔
جس کی وجہ سے مختلف محکموں میں بڑی تعداد میں اسامیاں خالی پڑی ہیں۔
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ ملک کا تعلیمی نظام سنگین بحران سے گزر رہا ہے اور پیپر لیک جیسے واقعات مودی سرکار کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلسل بڑھے ہیں، جس سے کروڑوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے ۔ اسی نظام میں اصلاحات اور طلبہ کی آواز کو قومی پلیٹ فارم دینے کے مقصد سے ‘چھاتروں کی گونج’ مہم چلائی جا رہی ہے ۔ گاندھی نے اس مہم کا آغاز راجستھان کے کوٹہ سے کیا تھا اور اسی سلسلے میں انہوں نے دہرادون میں طلبہ سے بات چیت کا پروگرام بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اپوزیشن میں رہتے ہوئے طلبہ کے حقوق کی لڑائی لڑ رہی ہے اور مستقبل میں سرکار بننے پر ‘چھاتروں کی گونج’ مہم کے ذریعے طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں سے ملنے والی تجاویز کی بنیاد پر “تعلیم میں اصلاحات کا انتخابی منشور” تیار کر کے اسے نافذ کیا جائے گا۔