چھتیس گڑھ میں 38 ہزار سرکاری ملازمین کو چیف منسٹر بگھیل کا تحفہ

   

رائے پور:چھتیس گڑھ حکومت نے وظیفہ یعنی اسٹائپنڈ کی فراہمی کو منسوخ کر دیا ہے، جس کے تحت براہ راست بھرتی کے عمل کے ذریعہ تعینات سرکاری ملازمین کو تقرری کے چوتھے سال سے پوری تنخواہ ملتی تھی۔ ایک افسر نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔محکمہ تعلقات عامہ کے اہلکار نے بتایا کہ اس قدم سے تقریباً 38000 سرکاری افسران اور ملازمین مستفید ہوں گے۔چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کا یہ قدم اس سال کے آخر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے پہلے سامنے آیا ہے۔عہدیدار نے بتایا کہ ہفتہ کو راجیو یووا متان کانفرنس کے دوران چیف منسٹر بھوپیش بگھیل نے وظیفہ کی فراہمی کو ختم کرنے کا اعلان کیا اور اس سلسلے میں ایک فیصلے کو ریاستی کابینہ نے شام میںمنظوری دے دی۔سال 2020 میں نافذ کردہ وظیفہ کے اصول کے تحت، براہ راست بھرتی کے عمل کے ذریعے تعینات ہونے والے سرکاری افسران اور ملازمین کو پروبیشن مدت کے پہلے، دوسرے اور تیسرے سال میں بالترتیب 70 فیصد، 80 فیصد اور بنیادی پے سکیل کا 90 فیصد وظیفہ ملے گا۔افسر نے کہا کہ قواعد کے مطابق تقرری کے چوتھے سال سے پوری تنخواہ دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے پروبیشن کا دورانیہ دو سال کا تھا لیکن ملازمین کو تقرری کے پہلے مہینے سے پوری تنخواہ ملتی تھی۔اہلکار نے مطلع کیا کہ ریاستی حکومت نے جولائی 2020 میں بھرتی کے قوانین میں وبا کووڈ کی مدت کے دوران ترمیم کی تاکہ وبائی مرض پر قابو پانے کی کوششوں میں مزید مالی وسائل مختص کیے جا سکیں اور موثر مالیاتی انتظام اور انتظامی نقطہ نظر کے ذریعے مستقبل کی تقرریوں میں تنخواہ کی لاگت کو کم کیا جا سکے۔اس کے بعد حکومت نے ملازمین کا پروبیشن پیریڈ دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دیا اور انہیں چوتھے سال سے پوری تنخواہ دینے کا فیصلہ کیا۔براہ راست بھرتی کے عمل کے ذریعے تعینات ہونے والے افسران اور ملازمین کو پہلے سال بنیادی پے سکیل کا 70 فیصد وظیفہ ملتا تھا جو دوسرے سال بڑھ کر 80 فیصد اور تیسرے سال 90 فیصد ہو گیا۔