چھوٹے اضلاع کے باوجود انتظامی امور میں کوئی بہتری نہیں ‘ مسائل برقرار

   

پانچ اضلاع میںانچارج کلکٹر کے ذریعہ کام چلایا جا رہا ہے ۔ کئی اضلاع میں کارکردگی ٹھپ
حیدرآباد۔8۔اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ نے اضلاع کی تنظیم جدید پر استفسارات کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ چھوٹے اضلاع میں انتظامی امور کو بہتر انداز میں انجام دیا جاسکتا ہے اور اضلاع کی تنظیم جدید کے بعد محکمہ مال‘ تعلیم ‘ انتظامی امور ‘ زرعی امور کے علاوہ دیگر میں بہتری پیدا ہوگی لیکن حکومت کے ان دعوؤں کے بعد اب بھی ریاست کے 5 اضلاع میں انچارج کلکٹر کے ذریعہ کام چلایا جا رہاہے جبکہ اضلاع کی تنظیم جدید کیلئے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ چھوٹے اضلاع میں ضلع کلکٹرس کو ذمہ داری کم ہوتی ہے اور وہ بہتر کاکردگی انجام دے سکتے ہیں لیکن ان دعوؤں کا اب محکمہ مال میں مذاق بنایا جانے لگا ہے کیونکہ 5 اضلاع میں انچارج کلکٹر کے ذریعہ کام چلایا جارہا ہے ۔ کئی اضلاع میں متعلقہ عہدیدارو ںکی کمی کے سبب کارکردگی ٹھپ ہوگئی ہے۔ضلع کلکٹر حیدرآباد ایل ۔شرمن کی وظیفہ پر سبکدوشی کے بعد اب تک مسٹر اموئے کمار کلکٹر رنگاریڈی انچارج کلکٹر حیدرآباد کے عہدہ پر فائز ہیں اور ان کی جگہ کسی عہدیدارکے تقرر میں کوئی پیشرفت نہیں ہورہی ہے۔میڑچل ۔ ملکا جگری کلکٹر وینکٹیشورلو کے تبادلہ کے بعد ان کی جگہ مخلوعہ عہدہ کی ذمہ داری کلکٹر میدک کو دی گئی ۔ضلع کلکٹرنلگنڈہ مسٹر پرشانت جیون پاٹل کا تبادلہ کرکے انہیں سدی پیٹ تعینات کیا گیا اور ان کی جگہ کسی اور عہدیدارکا تقرر نہ ہونے سے کلکٹر نلگنڈہ کا عہدہ بھی مخلوعہ ہے۔ حکومت کی جانب سے ضلع کلکٹر نلگنڈہ کے تبادلہ کے بعد اڈیشنل کلکٹر کو کلکٹر کی زائد ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ بھدادری کتہ گوڑم کلکٹر ایم وی ریڈی کی سبکدوشی کے بعد سے ان کی جگہ بھی کسی اور کا تقرر نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کسی کے تقرر کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ضلع بھدادری کتہ گوڑم میں بھی اڈیشنل کلکٹر کو زائد ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں ۔ انتظامی امور کے علاوہ تعلیمی امور کے نگران عہدیداروں کا کہناہے کہ عملہ اور عہدیداروں کی قلت اور انچارج ضلع کلکٹرس کے سبب بیشتر اضلاع میں کارکردگی متاثر ہورہی ہے اور اس سے حکومت کے ذمہ داروں اور چیف سیکریٹری کو واقف کروایا جاچکا ہے لیکن حکومت سے مسئلہ کی یکسوئی کیلئے اقدامات نہیں کئے گئے ۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے عہدیداروں کی قلت کے سبب کلکٹرس کے تقرر کے سلسلہ میں تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے گئے علاوہ ازیں چیف منسٹر کی مصروفیات کے سبب بھی یہ قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے۔م