چھ افراد کے قاتل نفسیاتی مریض راجکمار اور ریونت ریڈی میں کوئی فرق نہیں

   

ملزم کو بچانے 20 لاکھ روپئے کی رشوت لی گئی ، ہریش راؤ کا سنسنی خیز الزام
حیدرآباد 13 جولائی : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ نے چیف منسٹر ریونت ریڈی اور کانگریس حکومت پر انتہائی سنگین اور سنسنی خیز الزامات عائد کرکے ریاست کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے ۔ نارائن کھیڑ میں منعقدہ بی آر ایس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے 6 لوگوں کے قتل عام کے ملزم نفسیاتی مریض راجکمار کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر کے خلاف سخت ترین الفاظ کا استعمال کیا اور ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی بگڑتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ۔ ہریش راؤ نے چیف منسٹر کے بیانات پر طنز کرکے کہا کہ وہ کہہ رہے کہ ہماری ہتھیلیاں کاٹ کر خون چھڑکیں تو بارش ہوجائے گی ۔ سائیکو راجکمار اور چیف منسٹر ریونت ریڈی کی سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 6 افراد کے قتل کے ملزم راجکمار کو چیف منسٹر کے دوست مارکٹ کمیٹی کے چیرمین نے پولیس کو 20 لاکھ کی رشوت دے کر بچانے کی کوشش کی ہے ۔ سابق وزیر نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ ایک عصمت دری کے ملزم کے ساتھ بیٹھ کر پولیس نے شراب نوشی کی ہے ۔ اس کو فوری گرفتار کرنے کے بجائے 45 دن کا وقت دیا گیا جس سے فائدہ اٹھاکر ملزم نے عدالت سے ضمانت حاصل کرلی اور 6 لوگوں کا قتل کردیا ۔ پڑوسی ریاست کے چیف منسٹر 6 قتل کی مذمت کررہے ہیں ۔ مگر ہمارے چیف منسٹر اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ ہریش راؤ نے حکومت ہر دوہرے معیار کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی عام شہری یا سوشیل میڈیا کارکن ریونت ریڈی حکومت کی غلطیوں پر ٹوئیٹ کرتا ہے تو پولیس فوری مقدمہ درج کر کے اسے جیل میں ڈال دیتی ہے ۔ جب پولیس کے ساتھ بیٹھ کر عصمت ریزی کا ملزم شراب نوشی کررہا ہے اور پولیس ایسے ملزم کا مکمل ساتھ دے رہی ہے ۔۔ 2/k/b