چیف سکریٹری آندھراپردیش کی 22 ڈسمبر کو ہائیکورٹ میں طلبی

   

سرکاری اسکولوں کے احاطہ میں غیر مجاز تعمیرات پر عدالت کا اظہار برہمی
حیدرآباد ۔14 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) آندھراپردیش ہائی کورٹ نے عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سرکاری اسکولوں کے احاطہ میں گرام پنچایت کے دفاتر اور رعیتو بھروسہ مراکز کے قیامگاہ پر برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے چیف سکریٹری جواہر ریڈی کو 22 ڈسمبر کو عدالت میں شخصی طور پر حاضر ہوتے ہوئے وضاحت کرنے کی ہدایت دی۔ سرکاری اسکولوں کے احاطہ میں گرام پنچایت کے دفاتر اور رعیتو بھروسہ مراکز کی تعمیر کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ اسکولوں کے لئے جو اراضی الاٹ کی گئی ہے، وہاں طلبہ سے متعلق سرگرمیاں ہونی چاہئے ۔ دیگر سرگرمیوں سے تعلیم متاثر ہوگی۔ ہائی کورٹ نے سابق میں عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے حکومت پابند کیا تھا کہ اسکولوں کے احاطہ میں غیر تعلیمی سرگرمیاں انجام نہ دی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائیکورٹ کے احکامات کے باوجود کئی اسکولوں کے احاطہ میں پنچایت دفاتر اور رعیتو بھروسہ مراکز کی تعمیر کا آغاز ہوا اور اس سلسلہ میں کنٹراکٹرس کو بلز ادا کئے گئے۔ اس معاملہ میں ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہوئی ہے جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیف سکریٹری جواہر ریڈی کو 22 ڈسمبر ہائی کورٹ میں پیش ہوتے ہوئے وضاحت کی ہدایت دی۔ ر