چیف منسٹر ریونت ریڈی بی آر ایس ارکان اسمبلی کو لالچ دینے میں مصروف

   

کسانوں کی امداد کی فکر نہیں،’’ چلو سکریٹریٹ‘ احتجاجی پروگرام کا انتباہ

حیدرآباد۔/24 مارچ، ( سیاست نیوز) سابق وزیر فینانس ہریش راؤ نے کسانوں کے مسائل کی عدم یکسوئی پر ’چلو سکریٹریٹ‘ احتجاجی پروگرام کا انتباہ دیا۔ جنگاؤں میں رکن اسمبلی کڈیم سری ہری کے ہمراہ ہریش راؤ نے غیرموسمی بارش سے فصلوں کو نقصانات کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وزیر نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کے حل کیلئے بی آر ایس عنقریب احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ فصلوں کے نقصانات پر امداد کی فراہمی کیلئے ’چلو سکریٹریٹ‘ پروگرام منظم کیا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابی مہم کے دوران کانگریس نے کسانوں سے کئے گئے وعدوں کو اقتدار ملنے کے بعد فراموش کردیا ہے۔ فصلوں کو نقصانات پر فی ایکر 25 ہزار روپئے کی امداد کا مطالبہ کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ عہدیداروں کے ذریعہ سروے کے نام پر امداد کی تقسیم میں تاخیر کی جارہی ہے۔ غیر موسمی بارش سے کئی اضلاع میں کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں اور چیف منسٹر کو کسانوں سے زیادہ سیاسی فائدہ کی فکر ہے۔ چیف منسٹر بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کو کانگریس میں شامل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں حالانکہ کسان حکومت کی جانب سے امداد کا انتظارکررہے ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ گذشتہ تین ماہ میں180 کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزراء نے فی ایکر 10 ہزار روپئے کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک امدادی رقم کی تقسیم کا آغاز نہیں ہوا ہے۔فصلوں کو نقصانات کا معائنہ کرنے کے موقع پر سابق وزیر ای دیاکر راؤ بھی موجود تھے۔1