تمام جماعتوں کو سیاست سے بالاتر ہو کر تائید کرنے کی اپیل ، اسمبلی کی نشستیں 153 تک بڑھانے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 27 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے تلنگانہ اسمبلی میں حد بندی کے خلاف قرار داد پیش کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ آبادی کے تناسب سے حد بندی کرنے پر ریاستوں کو نقصان ہوگا ۔ موجودہ لوک سبھا حلقوں کو ہی برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ۔ ریاست میں اسمبلی حلقوں کی تعداد کو 153 تک بڑھانے کا مطالبہ کیا ۔ چیف منسٹر نے آبادی کے تناسب سے ایس سی ، ایس ٹی کی نشستیں بڑھانے پر زور دیا ۔ مرکزی حکومت نے آبادی کو کنٹرول کرنے کا ریاستوں کو حکم دیا ۔ جنوب کی ریاستوں نے آبادی کو کنٹرول کیا جبکہ شمالی ہند کی ریاستوں نے آبادی کو کنٹرول نہیں کیا ۔ فی الحال حد بندی کو 25 سال کے لیے معطل کردیا گیا ۔ حال ہی میں تاملناڈو کے چیف منسٹر اسٹالن نے حد بندی پر ایک اجلاس منعقد کیا جس میں آبادی کی بنیاد پر حلقوں کی تقسیم کو قبول نہ کرنے کی قرار داد منظور کی گئی ۔ آبادی کی بنیاد پر کی جانے والی حد بندی کی واجپائی نے بھی مخالفت کی ۔ چند لوگوں کی جانب سے حد بندی کے تعلق سے مرکز نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہ کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے ۔ لوک سبھا میں اس وقت جنوبی ہند ریاستوں کی 24 فیصد نمائندگی ہے ۔ اگر حد بندی کی جاتی ہے تو نمائندگی گھٹ کر 19 فیصد ہوجائے گی ۔ اس کے خلاف سب کو متحد ہونا چاہئے ۔ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی قرار داد کو جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر تمام جماعتیں تائید و حمایت کریں ۔ آندھرا پردیش کی تقسیم ریاست بل میں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے اسمبلی حلقوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ مگر ابھی تک مرکز نے اس پر عمل نہیں کیا ۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق سکم اور جموں کشمیر کے حلقوں میں اضافہ کیا گیا ۔ سیاسی مصلحت کی کمی کی وجہ سے تلگو ریاستوں میں اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ نہیں ہوا ۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ 24 فیصد جنوبی ہند کی نمائندگی ہے مگر مرکز کو 36 فیصد ٹیکس ادا کیا جارہا ہے۔ مگر مرکز سے جنوبی ہند کو بہت کم فنڈز وصول ہورہے ہیں جب کہ اترپردیش ، بہار ، مدھیہ پردیش کو مرکزی ٹیکس میں زیادہ حصہ داری فراہم کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر نے ریاستوں کو اعتماد میں لیے بغیر حد بندی کرنے کے لیے مرکز کی جانب سے شروع کی گئی تیاریوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔۔2