روش کمار
آج کل چیف منسٹر مدھیہ پردیش موہن یادو اور ان کی فیملی کے کافی چرچے ہیں ، ان پر اراضی اسکام میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اپوزیشن ایسا لگتا ہے کہ موہن یادو پر ٹوٹ پڑی ہے ۔ کہا یہ جارہا ہے کہ موہن یادو کی رئیل اسٹیٹ کمپنی پہلے سے ہی رہی ہوگی لیکن تب ان کے خاندان کی کمپنیوں کے پاس 82 ایکڑ ارا ضی تھی مگر 2021 میں وزیر تعلیم بننے کے بعد سے ان کے خاندان سے جڑی ان کمپنیوں نے 253 ایکڑ اراضی خریدی ، اس کا مطلب ان کی اراضیات میں 308 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے ۔ کچھ زمینات پراجکٹس کے اعلان سے پہلے اجین میں آس پاس لی گئیں اور کچھ بعد میں ظاہر ہے یہ مفادات کا ٹکراؤ (میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف منسٹر موہن یادو کی فیملی اور ان کی رئیل اسٹیٹ فرمس نے اجین میں 45 کروڑ روپئے مالیتی 168 ایکڑ پر محیط 137 پلاٹس خریدے اور یہ خریدی ڈسمبر 2023 سے کی گئی ، انڈین ایکسپریس کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے) کا ایسا معاملہ لگتا ہے جس سے مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر موہن یادو کی کرسی بھی چلی جاتی۔ اگر وہ بی جے پی کے چیف منسٹر نہیں ہوتے یا پھر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے دھاوے شروع ہوجاتے اور نہ جانے کیا کیا ہوتا ۔ اگر وہ بی جے پی کے چیف منسٹر نہیں ہوتے۔ کہانی یہ ہے کہ اجین میں جہاں بھی ترقی ہونے والی تھی اس کے پہنچنے سے پہلے چیف منسٹر موہن یادو اور ان کے خاندان کی رئیل اسٹیٹ کمپنیایں پہنچ کر اراضیات خرید لیتی ہیں تاکہ جب ترقی ہو اسے زمین کی کمی نہ ہو ۔ سستے داموں میں زمین حرید کر بعد میں اسے منافع سے رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کی بھی ترقی ہوتی ہوگی ۔ وہ ڈسمبر 2023 میں چیف منسٹر بنے اور گلے دو سال میں ان کے فیملی کی کمپنیوں نے 45 کرور روپئے میں 137 پلاٹس خرید لئے ۔ اس وقت ان زمینات کی بازاری قیمت سینکڑوں کروڑوں میں ہے یا ہزاروں کروڑوں میں ہے ، ہم نہیں بتاسکتے۔ اتنی ہی زمین خریدی گئی جتنی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے ۔ یہ بھی قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا ، اگر انڈین ایکسپریس کی رپورٹ سے چیف منسٹر کا استعفیٰ ہوجائے تب تو دپنک بھاسکر کی اسٹنگ رپورٹ سے اسی چیف منسٹر کے وزیر زراعت کا استعفیٰ ایک دن پہلے ہی ہوچکا ہوتا۔ بھاسکر کے اسٹنگ آپریشن میں وزیر زراعت کاسانہ کے بنگلہ پر وزیر کے اسٹاف خاص طور پر تبادلہ کے بدلے لاکھوں روپئے طلب کرتے ہ وئے کیمرے پر قید ہوئے ۔ وزیر موصوف کا رول بھلے نہ آیا ہو لیکن اخلاقی ذمہ داری ان کی تو بنتی ہے ۔ آپ خود بتایئے کہ اس خبر کو کیسے Manage کیا جائے جیسا کہ رام مندر میں ڈکیتی کی خبر کو Manage کیا گیا ۔ اسی پیاٹرن پر بانٹے طریقے سے Manage ہوگا کیونکہ جس طرح کی خبر اگر سیاست میں اخلاقی بنیاد پر استعفیٰ دینے کا دور ہوتا تو موہن یادو ابھی تک سابق چیف منسٹر ہوچکے ہوتے ۔ وزیراعظم نریندر مودی اخلاقی بنیاد پر کی جانے والی سیاست کے بل پر اپوزیشن لیڈروں پر الزامات عائد کرنے کی ہوئے روش اختیار کرتے ۔ بی جے پی کے چیف منسٹروں پر وزیروں پر جب الزام لگتا ہے تب اخلاقیات بھول جاتے ہیں۔ کانگریسی قائدین کے مطابق رام مندر کی چندہ چوری میں بی جے پی اور مہا کال کی زمین ہڑپنے میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی جی نے دونوں میں چھوٹ دے رکھی ہے ، حالانکہ رپورٹس میں واضح طور پر کہا گیا ہے، سرکاری دستاویزات میں کہا گیا ہے ۔ زمین کا (لینڈ) ریکارڈ کیا کہتا ہے۔ موہن یادو 2021 میں وزیر بنائے گئے ۔ ڈسمبر 2023 کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوئے ۔ 2021 سے 2023 کے درمیان موہن یادو فیملی کے قریبی رشتہ داروں کے پاس لگ بھگ 194 پلاٹس (253 ایکڑ زمین) یعنی 2021 سے 2025 کے درمیان 253 ایکڑ اراضی خریدی گئی ۔ وزیر بنے اور چیف منسٹر بنے ، آج تک ڈھائی سال میں دوسرا لینڈ ریکارڈ کیا کہتا ہے ۔ 2021 سے 2023 میں 57 پلاٹس میں 85 ایکڑ زمین حریدی۔ 2023 سے 2024 ایک سال میں 137 پلاٹس (166 ایکڑ) زمین خریدی گئی ۔ اتنی تیزی سے وسائل آمدنی میں ا ضافہ ہوا۔ اب یہ بتائے کہ وسائل آمدنی کیا رہے۔ اجین میں شہر کے ڈیولپمنٹ کا عمل جاری ہے ۔ کہیں سڑکیں بن رہی ہیں ، کہیں فلائی اوور اور کہیں ہائی وے تو کہیں کالونی بن رہے ہیں تو پراجکٹس کے اعلان سے پہلے ہی موہن یادو کی فیملی سے جڑی رئیل اسٹیٹ کمپنیاں خرید لیتی ہیں۔ پتہ چل جاتا ہے کہ یہاں پراجکٹس آنے والے ہیں اور ان جگہوں پر بھی زمین خریدتے آئے ہیں جہاں اجین کے 2035 کے ماسٹر پلان کے تحت کمپنی کی زمین کا استعمال بدلا جاتا ہے ۔ یہ تو سرکاری اعلان سے پہلے ہی کرلیا جاتا ہے ۔ جب زمین کی قیمت عام طور پر کم ہوتی ہے یا جہاں زمین ہوتی ہے ، اسی کے آس پاس پراجکٹ کا اعلان ہوجاتا ہے ۔ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے ۔ انڈین ایکسپریس کے جئے مجمدارکی اس رپورٹ کو پڑھ کر کئی صحافیوں کا تبصرہ یہی رہا کہ اس کی بھنک تو پہلے لگ گئی یہ تو سب کو پتہ تھا مگر چھاپنے اور لکھنے کی ہمت کوئی نہیں کر پارہا تھا ، اس لئے مدھیہ پردیش میں آج بہت سے صحافی ہاتھ ملتے رہ گئے کہ اگر ہمارے ہاتھ بندھے نہ ہوتے تو اس خبر کو لے کر ہم کچھ ہفتہ پہلے ہی دھماکہ دار رپورٹ پیش کرچکے ہوتے ۔ خبر شائع ہونے کے بعد بھی خبر چھونے کی ہمت انہیں نہیں ہوپارہی ہے ۔ ایک چیف منسٹر کے خلاف اتنا بڑا الزام عائد کیا گیا ہے اور شہر میں خاموشی طاری ہے ۔ چیف منسٹر موہن یادو کی اہلیہ سیما یادو بیٹا ویبھو ان کی بہو شالینی یادو ، بھائی نارائن یادو ، ریکھا یادو اور بھتیجے ابھئے یادو ، نلیش یادو اور موہن یادو کے ا یک اور بھائی نندلال یادو کا نام انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ کچھ زمینات انفرادی طور پر بھی خریدی گئی ہوں گی اور کچھ رئیل اسٹیٹ کمپنیوں نے خریدی ہوں گی ۔ ایکسپریس کے جئے مجمدار نے 253 ایکڑ زمین کی خریدی کی بات لکھی ہے ان کمپنیوں کی طرف سے۔ اس میں موہن یادو کی کمپنی سدھی ونائک دیوی کان کا بھی نام ہے اور تین دوسری کمپنیاں بھی شامل ہیں ۔ 2023 میں موہن یادو چیف منسٹر بنتے ہیں۔ اس کے بعد سے ان کی اور ان کے خاندان سے جڑی رئیل اسٹیٹ کمپنیوں نے اپنی زمین کی خریدی دگنی کردی۔ چیف منسٹر بننے سے پہلے موہن یادو 2004 سے لے کر 2010 اجین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے صدرنشین بھی رہے۔ کانگریس لیڈر اور موہن یادو کے سیاسی حریف سچن یادو نے الزام عائد کیا ہے کہ اجین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے چیرمین کے طور پر اجین کے ماسٹر پلان میں کئی بدلاؤ یا تبدیلیاں اس طرح سے کی گئیں تاکہ انہیں فائدہ ہو ۔ ان علاقوں کا نقشہ ہی بدل دیا گیا جہاں زمینات پہلے ہی سے اس فیملی کے پاس تھیں اور جہاں پہلے زمینات خریدی گئیں۔ اس کے بعد منصوبوں میں تبدیلی کا اعلان کیا گیا ۔ اس طرح راتوں رات زمینات کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اس طرح کے الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔ موہن یادو 2013 سے اجین دکھشن سے رکن اسمبلی رہے ۔ کانگریس لیڈر کہتے ہیں کہ ان خاندانوں کی کمپنیاں رپورٹس کے مطابق چار اہم رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے نام آئے ہیں۔ زیادہ حصہ داری سیما یادو اور موہن یادو کی ہے ۔ لگ بھگ 28 ایکڑ اراضی ، موہن یادو کی اہلیہ سیما یادو اور بیٹے ویبھو سے جڑی ہوئی تقریباً 25 ایکڑی اراضی ، موہن یادوکی بہن کلاوتی سے جڑی ہوئی 47 ایکڑ زمین یہ تین الگ الگ کمپنیاں ہیں۔ ایک کا نام ہے شری شیوانی بلڈکان ، دوسری کا ہے شری انا پورنا کنسٹرکشن اور تیسری کا ہے ستیم ڈیولپمنٹ ، ان تینوں کے الگ الگ اعداد و شمار ہیں جس میں فیملی کے قریبی رشتہ داروں کا بڑا حصہ ہے ۔ اب ان کمپنیوں کو حصہ داری دی گئی ۔ اس کے بعد کون کونسی اسکیمات و پروگرامس ان زمینات سے جڑی ہوئی آہیں موہن یادو چیف منسٹر اور وزیر رہنے کے دوران سڑک اور ہائی اجین روڈ کے علاوہ سڑکوں کو چوڑا کیا گیا ، نئی کنکٹیویٹی بنی ۔ اجین روڈ کو ترقی دی گئی ، اجین جھالا واڑ فو لائین اس زمین کے آس پاس آئی۔ اسے بے شمار پراجکٹس ان ہی ممینات کے قریب آئے۔ ایکسپریس میں عہدیداروں کا بیان ہے مگر نام نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کا خاندان برسوں سے رئیل اسٹیٹ میں رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ جہاں پراجکٹس کر رہے ہیں وہاں زمینات خریدی جاتی ہیں تو شبہات کیوں پیدا نہ ہوں۔ اپریل 2023 میں اجین کے نئے ماسٹر پلان کا اعلان ہوتا ہے۔ کچھ دن پہلے موہن یادو کے خاندان سے جڑی کمپنی منگل مورتی انفراء 30 ایکڑ اراضی خریدتی ہے ، یہ شائع ہوا ہے تو اس کی تحقیقات کیسے ہوگی کون کرے گا ۔ موہن یادو کے بھتیجہ کا کہنا ہے کہ ہمارا خاندان تو 2011 سے رئیل اسٹیٹ شعبہ سے وابستہ ہے۔