بی آر ایس کی دوکان بند ، وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی ، اسمبلی میں گرما گرم مباحث
حیدرآباد ۔ 15 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : اسمبلی میں آج بھی حکمران جماعت کانگریس اور اصل اپوزیشن بی آر ایس میں ٹھن گئی اور دونوں جماعتوں کے ارکان ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات عائد کئے ۔ ریاستی وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے بی آر ایس کی دوکان بند ہوجانے کا دعویٰ کیا جواب میں بی آر ایس کے رکن اسمبلی کڈیم سری ہری نے چیف منسٹر ریونت ریڈی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بی آر ایس سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی جیسے قائدین سے چوکنا رہیں ۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی کڈیم سری ہری نے بجٹ کے نقائص پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کانگریس حکومت وعدوں کو نبھانے میں ناکام ہوگئی ۔ کانگریس کے وعدوں اور مختص کردہ بجٹ میں کوئی مماثلت نہیں ہے جس پر وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ دلتوں کے بارے میں بات کرنے کا بی آر ایس پارٹی کو اخلاقی حق بھی نہیں ہے کیو ںکہ 2001 میں ٹی آر ایس پارٹی تشکیل دینے والے کے سی آر نے دلت قائد کو تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر بنانے کا وعدہ کیا اقتدار حاصل کرتے ہی خود چیف منسٹر بن گئے جب کہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ وعدہ نہ نبھانے پر سر جسم سے علحدہ کرلیں گے ۔ کٹا ہوا کے سی آر کا سر کہاں ہے وزیر نے بی آر ایس سے استفسار کیا ۔ جس پر بی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے اپنی اپنی نشستوں سے اُٹھ کر احتجاج کیا ۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس کے نلگنڈہ جلسہ عام کے بعد ایک گاڑی کی ٹکر سے ہوم گارڈ کی موت واقع ہوگئی ۔ بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر نے کوئی افسوس کا اظہار بھی نہیں کیا اور مہلوک کے ورثا کے لیے کوئی ایکس گریشیا کا بھی اعلان نہیں کیا ۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی کو خرید لینے کا الزام عائد کیا ۔ کڈیم سری ہری نے وزیر کے ریمارکس پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تلگو دیشم کا نام لیے بغیر کہا کہ میں اور چیف منسٹر ریونت ریڈی ایک ہی اسکول کے طالب علم ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ سینئیر ہیں اور چیف منسٹر جونیر ہیں ۔ پھر بھی ان کے چیف منسٹر بن جانے پر انہیں بے حد خوشی ہے ۔ چیف منسٹر کو اپنے لوگوں سے ہوشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ بی آر ایس کی طرف سے تمہیں کوئی خطرہ نہیں ہے ۔۔ 2