ایپکس کونسل اجلاس کیلئے حکمت عملی پر تبادلہ خیال۔آندھرا پردیش کے دلائل کا موثر جواب دینے کی تیاری
حیدرآباد:چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے جمعرات کو محکمہ آبی وسائل کے عہدیداروں کا اعلی سطحی اجلاس طلب کیا تاکہ 6اکتوبر کو ہونے والے ایپکس کونسل کے اجلاس میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جاسکے ۔یہ اجلاس کل 2بجے دن پرگتی بھون میں ہوگا۔وزیراعلی نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تلنگانہ ریاست کے مکمل ڈاٹا اور تفصیلات کے ساتھ اس اجلاس میں شرکت کریں۔ چیف منسٹرکے دفتر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں یہ بات بتائی گئی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آندھراپردیش ریاست جان بوجھ کر دریا کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر تنازعہ پیداکررہی ہے ۔ہمیں ایپکس کونسل کے اجلاس میں اے پی ریاست کے دلائل کا مناسب جواب دینا ہوگا۔انہوں نے عہدیداروں سے خواہش کی کہ وہ اس مسئلہ پر مناسب وضاحت دیں تاکہ اے پی حکومت مستقبل میں اس مسئلہ کو دوبارہ نہ اٹھاسکے ۔انہوں نے عہدیداروں سے خواہش کی کہ وہ مرکز کی جانب سے سات سال کی تاخیر اورغیر سرگرم رول کو بے نقاب کرنے کا موقع جانے نہ دیں،ہمیں تلنگانہ عوام کے حقوق کو کمزور کرنے کی کوششوں کو مستردکرناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں حقائق کا اظہار پورے ملک کے سامنے کرنے کیلئے اس ایپکس کونسل کے اجلاس سے استفادہ کرنا چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تقسیم کے قوانین کے تحت جہاں بھی نئی ریاست تشکیل دی جاتی ہے اس کو پانی کا حصہ الاٹ کرنا چاہئے۔چیف منسٹر نے کہاکہ تلنگانہ کی تشکیل 2جون 2014کو عمل میں لائی گئی تھی اور ہم نے وزیراعظم کو 14جون 2014کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے تلنگانہ کو اس کا پانی کا حصہ الاٹ کرنے کی درخواست کی تھی۔ہم نے کہا تھا کہ بین ریاستی دریاؤں کے تنازعہ کے ایکٹ 1956کی دفعہ 3کے تحت خصوصی ٹریبونل کی تشکیل یا پھر موجودہ ٹریبونل کے ذریعہ ہی پانی کا الاٹمنٹ ہوسکتا ہے ۔ہم نے تلنگانہ اور اے پی کے درمیان پانی کے الاٹمنٹ یا پھردریا کے طاس کی ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا مطالبہ کیا تھا۔سات سال گذرنے کے باوجود بھی وزیراعظم کو لکھے گئے مکتوب پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے کیونکہ مرکز اس مسئلہ پر خاموش ہے ۔ساتھ ہی مرکزی حکومت یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ وہ اس اجلاس کے ذریعہ کچھ کرنا چاہتی ہے تاہم حقیقت میں مرکزی حکومت کچھ بھی نہیں کررہی ہے۔6اکتوبر کو اس سلسلہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ہمیں یہ موقف اختیارکرنا چاہئے کہ تلنگانہ کو پانی کے الاٹمنٹ کے مسئلہ پر وضاحت ہونی چاہیئے ۔چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ریاست کے مطالبات کی حمایت میں پیش کئے جانے والے دلائل کی تیاری کریں۔