چیف منسٹر اور کے ٹی آر سے نمائندگی، سرکاری عہدے رکھنے کے باوجود عدم شرکت پر اعتراض، عہدوں سے محروم کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 7 جون (سیاست نیوز) مسجد یکخانہ عنبر پیٹ کی شہادت کے خلاف مسلمانوں میں ناراضگی کو دیکھتے ہوئے جن جماعتوں نے چیف منسٹر کی دعوت افطار کا بائیکاٹ کیا تھا ان پر برسر اقتدار ٹی آر ایس قائدین ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف حکومت سے نمائندگی کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کی دعوت افطار کے بائیکاٹ کی تحریک کا مثبت اثر ہوا اور اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں حکومت کی تائید کرنے والی مذہبی جماعتوں اور تنظیموں کے اہم قائدین غیر حاضر رہے۔ انہیں اندیشہ تھا کہ دعوت افطار میں شرکت کی صورت میں وہ مسلمانوں کے غیض و غضب کا شکار ہوں گے۔ یونائیٹیڈ مسلم فورم، جماعت اسلامی اور صدر مجلس علمائے دکن کے علاوہ دیگر تنظیموں کے ذمہ دار افطار میں شریک نہیں ہوئے۔ شہر کے نامور علماء و مشائخین نے بھی دعوت افطار کا بائیکاٹ کیا۔ مذہبی شخصیتوں کی افطار میں عدم شرکت کو چیف منسٹر اور حکومت میں شامل افراد نے محسوس کیا جبکہ ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر اور وزیر داخلہ سے پارٹی قائدین نے نمائندگی کی کہ ایسی جماعتوں کو جنہیں سرکاری عہدے دیئے گئے ہیں، انہوں نے چیف منسٹر کی دعوت افطار کا بائیکاٹ کیا۔ لہٰذا انہیں سرکاری عہدوں سے سبکدوش کردیا جائے۔ اقلیتی قائدین نے پارٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما رائو کو بھی اپنے جذبات و احساسات سے واقف کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت میں شامل افراد بھی ان تنظیموں سے ناراض ہیں جو حکومت کی مراعات حاصل کرنے کے باوجود دعوت افطار میں شریک نہیں ہوئے اور عام مسلمانوں میں یہ پیام پہنچا کہ علماء و مشائخین حکومت سے خوش نہیں ہیں۔ یونائیٹیڈ مسلم فورم کے صدرنشین کو اردو اکیڈیمی کی صدارت دی گئی جبکہ فورم میں شامل جماعت تعمیر ملت کو تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن میں رکنیت دی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کے نمائندے کو وقف بورڈ کا رکن بنایا گیا۔ پارٹی کے اقلیتی قائدین پہلے ہی اس بات پر ناراض ہیں کہ غیر ٹی آر ایس قائدین کو سرکاری اداروں میں نمائندگی دیتے ہوئے انہیں نظرانداز کردیا گیا۔ اب جبکہ مذکورہ تینوں جماعتوں کے ذمہ دار دعوت افطار سے غائب رہے ایسے میں اقلیتی قائدین کی ناراضگی عروج پر پہنچ چکی ہے اور انہوں نے عہدوں سے سبکدوش کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مہم میں شدت پیدا کردی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اقلیتی قائدین کے جذبات کا کس حد تک احترام کرے گی۔ دوسری طرف مسجد یکخانہ کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کے وعدے کی تکمیل حکومت کو کرنی ہے۔ وزیر داخلہ محمود علی اور صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے مسجد کی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ اب جبکہ رمضان المبارک گزرچکا ہے مسلمانوں کو اس وعدے پر عمل آوری کا انتظار ہے۔