افسانوی وکٹ کیپر سید کرمانی کی ساتھیوں سے ملاقات ، خود نوشت سوانح حیات کی لانچنگ کے لیے جناب عامر علی خاں ایم ایل سی سے تبادلہ خیال
حیدرآباد ۔ 14 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ٹیم انڈیا کو دنیائے کرکٹ کی ایک بڑی طاقت بنانے میں 1983 کی ورلڈ چمپئن انڈین ٹیم کا سب سے اہم کردار رہا وہ ایسا دور تھا جب ہندوستانی کرکٹ ٹیم کو کمزور ٹیم کہا جاتا تھا جب کہ ویسٹ انڈیز دنیا کی طاقتور ترین ٹیم ہوا کرتی تھی جس میں کلائنو لائیڈ ، ویوین رچرڈس ، گارڈن گرپنچ ، ڈیسمنڈ ہنیس ، مالکم مارشل مائیکل ہولڈنگ اینڈی رابرٹس جیسے غیر معمولی کھلاڑی اپنی حریف ٹیم پر اس قدر نفسیاتی خوف طاری کردیتے کہ وہ شکست سے پہلے ہی شکست تسلیم کرنے کے مترادف ڈھیر ہوجاتی لیکن اُس وقت فائنل میں پہنچی ہندوستانی ٹیم نے کپل دیو کی قیادت میں ویسٹ انڈیز کو 43 رن سے شکست دے کر اس کا غرور و تکبر خاک میں ملا دیا ۔ اس وقت کرکٹ کے بڑے بڑے پنڈتوں کو یہ امید ہرگز نہیں تھی کہ ہندوستانی ٹیم فائنل میں بھی پہنچ پائے گی یا نہیں ۔ اگر ورلڈ کپ 1983 کے ہندوستانی ٹیم کے فائنل میں پہنچنے کا سوال ہے اس میں زمبابوے کے خلاف کھیلے گئے یادگار میچ نے اہم رول ادا کیا جس میں کپل دیو نے 175 ناٹ آوٹ اور وکٹ کیپر سید مجتبیٰ حسین کرمانی نے 24 رن ناٹ آوٹ بنائے تھے ان دونوں کی پارٹنر شپ نے ہی انڈین ٹیم کے فائنل میں پہنچنے کی راہ ہموار کی ۔ واضح رہے کہ زمبابوے کے خلاف میچ میں ٹیم انڈیا نے 8 وکٹوں پر 266 رن اسکور کیا جب کہ زمبابوے 235 رن ہی بناسکی تاہم ہندوستانی ٹیم صرف 17 رن پر 6 وکٹس گنوا چکی تھی سنیل گواسکر صفر ، سریکانت صفر ، مہیندر امرناتھ 5 رن ، سندیپ پاٹل ایک رن اور یشپال شرما صرف 9 رن اسکور کرسکے ۔ فائنل میں ہندوستانی ٹیم نے 183 رن اسکور کیے جس میں سریکانت نے سب سے زیادہ 38 رن بنائے ۔ سید کرمانی کا اسکور 14 رہا ویسٹ انڈیز 52 اوورس میں 140 کے اسکور پر ڈھیر ہوگئی ۔ ان یادوں کو ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق افسانوی وکٹ کیپر سید مجتبیٰ حسین کرمانی نے سیاست سے بات کرتے ہوئے تازہ کیا ۔ وہ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ایم ایل سی سے ملاقات کے لیے ممتاز ہندوستانی نژاد امریکی صنعت کار و سفارت کار جناب لطفی حسن کے ہمراہ دفتر سیاست پہنچے ۔ مسٹر لطفی ایپکس گروپ آف کمپنیز کے صدر نشین ہیں ساتھ ہی گیانا کے اعزازی قونصل جنرل بھی ہیں ۔ سید کرمانی نے مزید بتایا کہ ان کی زندگی میں ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب آسٹریلیا کے خلاف ٹسٹ میچ میں انہیں نائٹ واچ مین کے طور پر بھیجا گیا تب ٹیم منیجر نے ان پر واضح کردیا کہ انڈیا کی عزت کا سوال ہے ۔ اگر تم ناکام رہوگے تو پھر اپنا کیرئیر ختم سمجھو ، سید کرمانی نے اس ٹسٹ میں 306 منٹ تک کریز پر رہ کر 206 گیندوں کا سامنا کر کے 101 رن بنائے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 29 دسمبر 1949 چینائی میں ان کی پیدائش ہوئی جب کہ کنڈر گارٹن کی تعلیم حیدرآباد سینٹ پال میں ہوئی اور فرسٹ اور سکنڈ کلاس آل سنٹس اسکول میں پرھا پھر والدین کے ساتھ بنگلور منتقل ہوگئے ۔ 24 جنوری 1976 کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنی زندگی کا پہلا ٹسٹ میچ کھیلا ۔ انہوں نے 88 ٹسٹ میچس میں ہندوستان کی نمائندگی کی 1986 میں آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹسٹ کھیلا ۔ جناب عامر علی خاں ایم ایل سی سے ملاقات کرتے ہوئے سید مجتبیٰ حسین کرمانی نے انہیں اپنی خود نوشت سوانح عمری Stumped : Life and Beyond the 22 yards کے بارے میں واقف کروایا اور بتایا کہ وہ حیدرآباد میں بھی اپنی اس کتاب کو لانچ کرنے کے خواہاں ہیں اور اس ضمن میں روزنامہ سیاست غیر معمولی تعاون و اشتراک کرسکتا ہے ۔ سید مجتبیٰ حسین کرمانی کے مطابق روزنامہ سیاست دنیا بھر میں اردو صحافت کا برانڈ اخبار تصور کیا جاتا ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے انہیں ممکنہ تعاون کا تیقن دیا ۔ واضح رہے کہ سید کرمانی کی خود نوشت سوانح حیات کی رسم اجراء بنگلورو کے چنا سوامی اسٹیڈیم میں منعقدہ ایک شاندار و پر اثر تقریب میں انجام دی گئی ۔ اس موقع پر کپل دیو ، راہول ڈراویڈ ، انیل کمبلے ، وی وی ایس لکشمن ، ای اے ایس پرسنا ، بی ایس چندر شیکھر ، برجیش پٹیل انفوسس کے شریک بانی نارائن مورتی ، کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیو کمار ، جناب لطفی حسن اور کئی ممتاز شخصیتوں کی کہکشاں موجود تھی ۔ دوران گفتگو سید کرمانی نے یہ بھی بتایا کہ حیدرآباد کے پی آر مان سنگھ 1983 کرکٹ ورلڈ کپ کی فاتح انڈین ٹیم کے منیجر تھے ۔ سید کرمانی کا کہنا ہے کہ جو انسان چیلنجز کا سامنا کرتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلے چند دہوں کے دوران تاریخی شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد نے زبردست ترقی کی جس کی وہ ستائش کرتے ہیں آپ کو بتادیں کہ سید مجتبیٰ حسین کرمانی نور خاں بازار میں اپنے بھائی سید مصطفی حسین کرمانی کی قیام گاہ میں مقیم ہیں ۔ جناب عامر علی خاں سے سید کرمانی کی ملاقات کے موقع پر ثانیہ مرزا کے والد عمران مرزا اور ساجد پیرزادہ بھی موجود تھے ۔ امید ہے کہ بہت جلد حیدرآباد میں بھی ان کی خود نوشت سوانح حیات کی اجرائی عمل میں آئے گی ۔ اس کتاب کا پیش لفظ لٹل ماسٹر سنیل گواسکر نے لکھا ہے ۔۔