مرکزی حکومت سے نیشنل میڈیکل کمیشن میں ترمیم ، اعتراضات و ادعا جات کی طلبی
حیدرآباد۔4۔جنوری (سیاست نیوز) نیشنل میڈیکل کمیشن سے ڈاکٹرس کے خلاف شکایات کے ساتھ اب مریض یا ان کے رشتہ دار بھی رجوع ہوسکیں گے! مرکزی حکومت نے نیشنل میڈیکل کمیشن کے قوانین میں ترمیم کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اندرون 30 یوم عوامی اعتراضات اور ادعاجات کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ جلد ہی مرکزی حکومت کی جانب سے نیشنل میڈیکل کمیشن کے دائرہ کو وسیع کرتے ہوئے کمیشن سے مریضوں یا ان کے رشتہ داروں کو ڈاکٹرس اور دواخانوں کے خلاف رجوع ہونے کا اختیار حاصل ہوجائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ گذشتہ دنوں قانون حق آگہی کے تحت داخل کی گئی ایک درخواست میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ نیشنل میڈیکل کمیشن نے سال 2021 کے دوران ملک بھر میں مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کی جانب سے داخل کی جانے والی 65 شکایات کو خارج کردیا ہے اور کمیشن کے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہا جا رہاہے کہ کمیشن ڈاکٹرس اور دواخانوں کی شکایات کی سماعت کرتا ہے۔ مرکزی حکومت نے نیشنل میڈیکل کمیشن بل 2022کا مسودہ تیارکیا ہے جس پر اعتراضات اور ادعا جات قبول کئے جا رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ مرکزی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ نیشنل میڈیکل کمیشن اور ایتھکس اینڈ میڈیکل رجسٹریشن بورڈ کے قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے ان اداروں سے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کے علاوہ عوام کو شکایات کے ساتھ رجوع ہونے کا اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے اورکہا جا رہاہے کہ ان ترامیم کا مقصد ملک میں شعبہ طب میں اصلاحات کو یقینی بناتے ہوئے ڈاکٹرس اور مریض کے رشتہ کو مزید مستحکم کرنا ہے کیونکہ ڈاکٹرس میں جوابدہی کا احساس پیدا ہونے کی صورت میں وہ اپنے مریضوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار نہیں کرسکیں گے۔مرکزی حکومت نے 29 ڈسمبر 2022 مجوزہ بل کا مسودہ پیش کردیا ہے ۔2019میں کی گئی ترامیم کے بعد ڈاکٹرس یا دواخانوں کے خلاف غیر ڈاکٹرس کی جانب سے نیشنل میڈیکل کمیشن سے رجوع ہونے کا اختیار چھین کیا گیا تھا جبکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق ایسا کرنا درست نہیں ہے کیونکہ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو بھی ڈاکٹرس کے خلاف شکایت اور اپیل داخل کرنے کا حق حاصل ہے اور وہ ان کے ساتھ ہونے والی نانصافیوں یا بد احتیاطی کے خلاف ارباب مجاز یا ادارہ سے رجوع ہوتے ہوئے انصاف حاصل کرسکتے ہیں اسی لئے مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس ترمیم کے مسودہ کی مختلف گوشوں سے تائید کی جا رہی ہے۔م