کوپن ہیگن: امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیس‘ نے دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیاہے کہ ڈنمارک نے امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ٹیم کو شخصی پیغامات بھیجے ہیں جس میں جزیرے پر دعوی کیے بغیر گرین لینڈ میں سیکورٹی کو مضبوط بنانے یا وہاں امریکی فوج کی موجودگی میں اضافے پر بات چیت کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے والے ٹرمپ نے ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کو “مکمل ضرورت” قرار دیا ہے۔ٹرمپ نے فوجی یا اقتصادی ذرائع کا سہارا لینے کے امکان کو مسترد نہیں کیا، جس میں ڈنمارک پر کسٹم ڈیوٹی عائد کرنا شامل ہے۔ایکسیس نے رپورٹ کیا کہ ڈنمارک کی حکومت ٹرمپ کو اس بات پر قائل کرنا چاہتی ہے کہ گرین لینڈ کا کنٹرول سنبھالے بغیر ان کے سیکورٹی خدشات کو دور کیا جا سکتا ہے۔ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے چند روز قبل کہا تھا کہ انہوں نے ٹرمپ سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔گرین لینڈ کے وزیر اعظم موتی ایجیدے نے بھی جمعہ کو کہا کہ وہ ٹرمپ سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن انہوں نے جزیرے کی آزادی کی خواہشات کے احترام کا مطالبہ کیا۔ڈنمارک کے مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ حکومت نے آرکٹک میں معائنے کے مشن کے لیے دو نئے بحری جہاز خریدنے اور گرین لینڈ میں اپنی فوجی موجودگی کو تقویت دینے کے لیے کتے کی سلیج گشت بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔ڈنمارک کے پبلک براڈکاسٹر DR اور TV2 نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ ڈینش حکومت نے مغربی گرین لینڈ میں سابق امریکی فوجی اڈے کینگر لوسواک ایئرپورٹ کو F-35 لڑاکا طیاروں کی سہولت کے لیے اپ گریڈ کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ڈنمارک نے آرکٹک اور شمالی بحر اوقیانوس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کی تعیناتی کے لیے پہلے ہی 400 ملین ڈالر مختص کیے ہیں۔