سابق رکن اسمبلی پر حملہ کی کوشش، قا ئدین پر ڈگ وجئے سنگھ برہم،اختلافات کے بجائے اتحاد کا مشورہ
حیدرآباد ۔22 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے بحران کی یکسوئی کیلئے ہائی کمان کے نمائندے ڈگ وجئے سنگھ کی گاندھی بھون میں موجودگی کے موقع پر پارٹی میں اختلافات اور گروہ بندیاں منظر عام پر آگئیں۔ ناراض قائدین کے حامیوں نے صدرپردیش کانگریس ریونت ریڈی کے حامی سابق رکن اسمبلی پر حملہ کی کوشش کی جس کے نتیجہ میں صورتحال اچانک کشیدہ ہوگئی۔ کانگریس کارکن ایک دوسرے پر حملہ کی کوشش کرنے لگے اور نعرہ بازی کی گئی۔ سینئر قائدین کی مداخلت سے تصادم کو ٹال دیا گیا تاہم ڈگ وجئے سنگھ نے صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا ۔ واضح رہے کہ پارٹی عاملہ میں حقیقی کارکنوں کو نظر انداز کرنے کی شکایت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی ، بھٹی وکرمارکا اور دیگر سینئر قائدین نے اجلاس طلب کیا تھا۔ پارٹی میں اختلافات ختم کرنے کیلئے صدر کانگریس ملکارجن کھرگے نے سینئر قائد اور سابق چیف منسٹر ڈگ وجئے سنگھ کو تلنگانہ روانہ کیا۔ ڈگ وجئے سنگھ کل شام حیدرآباد پہنچنے سے قبل دہلی میں ریونت ریڈی ، اتم کمار ریڈی اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کل رات سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر ، رکن اسمبلی سریدھر بابو اور وی ہنمنت راؤ سے پارٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ ڈگ وجئے سنگھ آج صبح سے گاندھی بھون میں قائدین سے ملاقات میں مصروف تھے۔ ملاقاتوں کا سلسلہ شام تک جاری رہا ۔ سابق مرکزی وزیر رینوکا چودھری ، سابق اپوزیشن لیڈر جانا ریڈی ، رکن اسمبلی سیتکا، ڈی سریدھر بابو ، مہیش کمار گوڑ ، ملو روی اور دیگر قائدین نے پارٹی کی صورتحال پر اپنی رائے سے واقف کرایا۔ سابق رکن اسمبلی انیل جو ریونت ریڈی کے حامی ہیں، جیسے ہی ڈگ وجئے سنگھ سے ملاقات کے بعد باہر نکلے ، عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ قائدین نے ان پر حملہ کی کوشش کی ۔ طلبہ قائدین اتم کمار ریڈی کے خلاف انیل کے بیان پر برہم تھے ۔ انہوں نے جیسے ہی سابق رکن اسمبلی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ، ملو روی اور دیگر سینئر قائدین نے مداخلت کرتے ہوئے تصادم کو روک دیا۔ اس موقع پر گاندھی بھون میں سینئر قائدین کے حامی اور ریونت ریڈی کے حامی ایک دوسرے کے مقابل ہوگئے۔ عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ قائدین کا کہنا تھا کہ پارٹی عاملہ میں انہیں نظر انداز کردیا گیا ہے۔ تصادم کی صورتحال پر ڈگ وجئے سنگھ نے برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے قائدین سے کہا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور ان کے مسائل کی یکسوئی کیلئے ہائی کمان موجود ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ وہ پارٹی ہائی کمان کو اپنی رپورٹ پیش کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں جونیئر اور سینئر کا فرق نہیں ہونا چاہئے۔ جو بھی مسائل ہیں ، انہیں میڈیا سے رجوع کرنے کے بجائے ہائی کمان کے علم میں لایا جائے۔ انہوں نے ہر مسئلہ کو میڈیا سے رجوع کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ڈسپلن شکنی کو پارٹی برداشت نہیں کرے گی۔ ر
ملاقات کرنے والے قائدین سے ڈگ وجئے سنگھ نے بی آر ایس کو شکست دینے کیلئے ان کی حکمت عملی کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے کہا کہ آپسی اختلافات کے بجائے پارٹی کے استحکام پر توجہ دی جائے۔ سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا ، مہیشور ریڈی ، مدھو یاشکی اور دامودر راج نرسمہا نے بھی ڈگ وجئے سنگھ سے ملاقات کی۔ بھٹی وکرمارکا نے بتایا کہ ڈگ وجئے سنگھ کو پارٹی کی صورتحال سے واقف کرایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کئی سینئر اور تجربہ کار قائدین موجود ہیں۔ ڈگ وجئے سنگھ نے ملاقاتوں کا عمل مکمل کرلیا ہے اور وہ کل دہلی واپس ہوجائیں گے۔ ر