ڈیجیٹل ادائیگیاں: حیدرآباد ملک میں سرفہرست، 76 فیصد اخراجات آن لائن

   

امیزون پے اور پہلے انڈیا فاؤنڈیشن کی رپورٹ، یو پی آئی کا استعمال روزمرہ زندگی کا حصہ
حیدرآباد، 4 نومبر ]سیاست نیوز[کیش لیس ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال میں حیدرآباد ملک بھر میں سرفہرست مقام حاصل کر چکا ہے۔ امیزون پے (Amazon Pay) اور پہلے انڈیا فاؤنڈیشن (Pahle India Foundation) کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کردہ رپورٹ ‘How Urban India Pays 2026’ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حیدرآباد کے صارفین کے جملہ اخراجات کا 76 فیصد حصہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے انجام پا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یو پی آئی (UPI) کا استعمال شہر حیدرآباد میں عوام کی روزمرہ زندگی کا بنیادی حصہ بن چکا ہے ، جہاں شہری ہوٹلوں میں کھانے ، سفر اور اشیاء ضروریہ کی خریداری کے لیے نقد رقم کی بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ حیدرآباد میں ملازمت پیشہ افراد ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال میں سب سے آگے ہیں۔ قومی اوسط کے مقابلے حیدرآباد کے ملازمین ہوٹلوں میں کھانے اور سفر کے لیے 16 فیصد زیادہ یو پی آئی کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بچت کی سہولیات کے استعمال میں بھی یہاں کے رہائشی قومی اوسط سے 13 فیصد آگے ہیں۔ ڈیجیٹل فامس کو صرف ادائیگیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ مالیاتی انتظام اور بچت کیلئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ سے یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ کیش بیک آفرز اور بہتر سہولیات کی بنیاد پر ادائیگی ایپس کو تبدیل کرنے والے 50 فیصد صارفین حیدرآباد میں موجود ہیں، جو فوائد فراہم کرنے والی ایپس کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔-2/a/b