حکومت کو کے ٹی آر کا چیالنج، کالیشورم پراجکٹ کا معائنہ، حیدرآباد میں پانی کی قلت کا اندیشہ
حیدرآباد۔ 5 جولائی (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے عوامی نمائندوں اور پارٹی قائدین کے ساتھ آج کالیشورم پراجکٹ کے کنے پلی پمپ ہاوز کا دورہ کیا۔ پولیس کی جانب سے راستے میں کئی ایک مقامات پر کے ٹی آر کے قافلے کو روکنے کی کوشش کی گئی۔ جنگاؤں، گھن پور، پرکالا، بھوپال پلی، کاٹارم اور مہادیو پور میں پولیس نے کالیشورم پراجکٹ کی طرف پیشرفت سے روکنے کی کوشش کی۔ کے ٹی آر گاڑیوں کے طویل قافلے کے ساتھ کنے پلی پمپ ہاوز پہنچے اور پانی کی اجرائی کا جائزہ لیا۔ ان کے ہمراہ سابق وزراء جگدیش ریڈی، جی کملاکر، ستیہ وتی راٹھور، کے ایشور، رکن پارلیمنٹ ایم روی چندرا، ارکان اسمبلی ای راجیشور ریڈی، کوشیک ریڈی، کے سنجے، سابق ارکان پارلیمنٹ ڈی ونود کمار، ایم کویتا، جنرل سکریٹری بی آر ایس جیون ریڈی اور دیگر قائدین موجود تھے۔ معائنہ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کالیشورم پراجکٹ سے استفادہ نہ کرنے کا حکومت پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ کنے پلی پمپ ہاوز سے ایک لاکھ کیوسک پانی ضائع ہو رہا ہے جسے مختلف اضلاع کو سربراہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنے پلی پمپ ہاوز کے دورہ کا مقصد سیاسی طور پر فائدہ اٹھانا اور حکومت پر تنقید کرنا نہیں ہے۔ کے سی آر حکومت نے 4 سال میں 141 ٹی ایم سی کی صلاحیت والے کالیشورم پراجکٹ کو مکمل کیا ۔ متحدہ رنگاریڈی اور محبوب نگر کو چھوڑ کر ریاست کے تمام علاقوںمیں پراجکٹ کے ذریعہ پانی سربراہ کیا جاسکتا ہے۔ کم بارش کے باوجود کنے پلی پمپ ہاوز میں پانی کی سطح برقرار رہے گی۔ کے ٹی آر نے حکومت کو چیالنج کیا کہ کالیشورم پراجکٹ ایک ہفتہ کے لئے کے سی آر کے حوالے کردیا جائے اور وہ ساری ریاست کے علاقوں کو پانی کی سربراہی کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کے سی آر کو محض ایک ہفتہ کے لئے پراجکٹ کی ذمہ داری دی جائے تو تلنگانہ کا کوئی بھی علاقہ پانی سے محروم اور خشک سالی کا شکار نہیں ہوگا۔ منتھنی اسمبلی حلقہ کے تحت کنے پلی پمپ ہاوز پہنچنے میں کے ٹی آر کو 7 گھنٹوں سے زائد لگ گائے کیونکہ پولیس نے جگہ جگہ گاڑیوں کے طویل قافلے کی اجازت نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے روکنے کی کوشش کی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کنے پلی پمپ ہاوز کو فوری استعمال کرنے اور گوداوری سے پانی حاصل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی سربراہی سے ریاست کا کوئی بھی علاقہ خشک سالی کا شکار نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے 33 میں 26 اضلاع خشک سالی کی صورتحال کا سامنا کررہے ہیں۔ کئی لاکھ کیوسک پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زرعی شعبہ اور کسانوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کالیشورم پراجکٹ کو جان بوجھ کر نظرانداز کررہی ہے۔ انہوں نے پراجکٹ کی تعمیر میں بے قاعدگیوں کے الزامات کو مسترد کردیا اور مرمتی کاموں کی عاجلانہ تکمیل کا مطالبہ کیا۔ پولیس کی جانب سے بار بار رکاوٹوں کی مذمت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ 4 گھنٹوں کا سفر پولیس کے رویہ کے باعث 7 گھنٹوں میں مکمل ہوا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اگر گوداوری سے پانی کی سربراہی پر توجہ نہیں دی گئی تو حیدرآباد میں بھی پانی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو آبپاشی شعبہ کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہئے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اگر حکومت تلنگانہ کے کسانوں کے مفادات کو نظرانداز کرتی رہی تو 50 تا 60 ہزار افراد کے ساتھ کنے پلی پمپ ہاوز کا محاصرہ کیا جائیگا۔ 1؍F
کے ٹی آر کے قافلے میں شامل دو گاڑیوں کو حادثہ
رکن قانون ساز کونسل راجو زخمی
حیدرآباد۔ 5 جولائی (سیاست نیوز) بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کی کالیشور پراجکٹ کے معائنہ کے لئے روانگی کے دوران قافلہ میں موجود دو گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں جس کے نتیجہ میں بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل شمبھی پور راجو معمولی طور پر زخمی ہوگئے۔ کے ٹی آر، ارکان اسمبلی اور سینئر قائدین کے ساتھ کالیشورم پراجکٹ کے کنے پلی پمپ ہاوز کے معائنہ کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ جنگاؤں ضلع کے اسٹیشن گھن پور کے قریب تیز رفتار دو گاڑیاں آپس میں ٹکرا گئیں اور یہ دنوں قافلے کا حصہ تھیں۔ سامنے کی گاڑیوں کے اچانک بریک لگانے سے پیچھے کی دو گاڑیاں ٹکرا گئیں۔ دونوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور ایک گاڑی میں سوار رکن اسمبلی زخمی ہوگئے۔ پارٹی قائدین اور سیکوریٹی نے انہیں ہاسپٹل منتقل کیا اور طبی امداد دی گئی۔ کے ٹی آر نے قافلے کو روک کر رکن کونسل کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ کئی ارکان اسمبلی نے زخمی رکن کونسل کی عیادت کی۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن کونسل کے ہاتھ اور پیر میں معمولی فریکچر کی ڈاکٹرس نے نشاندہی کی۔ کے ٹی آر اور دیگر قائدین عیادت کے بعد کنے پلی روانہ ہوگئے۔ 1؍F