کاماریڈی ماسٹر پلان پر حکم التواء سے تلنگانہ ہائی کورٹ کا انکار

   

حکومت کو جواب داخل کرنے کی ہدایت، 25 جنوری کو آئندہ سماعت
حیدرآباد۔/11 جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے کاماریڈی ماسٹر پلان پر حکم التواء جاری کرنے سے انکار کیا ہے۔ ماسٹر پلان کے لئے اراضیات کے حصول کی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے کسان مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ کسانوں نے ماسٹر پلان کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے حکم التواء کی گذارش کی۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ کاماریڈی ٹاون پلاننگ کے امور میں فوری طور پر کوئی احکامات جاری نہیں کئے جائیں گے۔ حکومت کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ عدالت نے ریمارک کیا کہ حیدرآباد، ورنگل ماسٹر پلان کے بارے میں کئی برسوں سے تعطل کی صورتحال ہے۔ اگر منصوبہ کے مطابق عمل کیا جاتا تو ملک میں ترقی ہوتی۔ ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ اعتراضات کو قبول نہ کریں اور ماسٹر پلان پر عمل آوری کی اجازت دی جائے۔ ہائی کورٹ نے حکومت کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت 25 جنوری کو مقرر کی ہے۔ درخواست گذاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کسان ماسٹر پلان میں تبدیلی کے حق میں ہیں۔ اسی دوران ماسٹر پلان کی مخالفت کرتے ہوئے کسانوں کی مختلف تنظیموں پر مشتمل جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے میونسپل آفس کے روبرو دھرنا منظم کیا۔ صبح 9 بجے سے دھرنے کا آغاز ہوا۔ بی جے پی، کانگریس، تلنگانہ جنا سمیتی اور وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کے قائدین نے کسانوں کے احتجاج کی تائید کی۔ واضح رہے کہ وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے کسانوں کے اعتراض پر ماسٹر پلان میں تبدیلی سے اتفاق کیا تھا تاہم سرکاری سطح پر اس ضمن میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ر