حیدرآباد۔/27 جولائی، ( سیاست نیوز) کالیشورم پراجکٹ کے مسئلہ پر سپریم کورٹ میں تلنگانہ حکومت کو جھٹکا لگا جب عدالت نے 3 ٹی ایم سی پانی کے ذخیرہ سے متعلق کاموں پر حکم التواء جاری کردیا ہے۔ سپریم کورٹ میں پراجکٹ کے خلاف درخواست دائر کی گئی جس میں شکایت کی گئی کہ ماحولیاتی منظوری اور تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کے بغیر ہی تعمیری کام انجام دیئے جارہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ حکومت کے وکیل سے ماحولیاتی منظوری کے بارے میں استفسار کیا۔ بعد میں عدالت نے تعمیری کاموں پر حکم التواء جاری کیا۔ حکومت کو تفصیلی حلف نامہ داخل کرنے کیلئے 4 ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے اور آئندہ سماعت 4 ہفتے بعد ہوگی۔ کالیشورم پراجکٹ کے تعمیری کاموں کے سلسلہ میں اراضی کے حصول سے متعلق سرگرمیوں پر درخواست دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے درخواست کو سماعت کیلئے قبول کرلیا اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کی گئی ہے۔ اراضی کے حصول کے معاملہ کو جوں کا توں برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے جسٹس اے ایم کھینوالکر، جسٹس ابھئے ایس اوکا اور جسٹس پارڈی والا پر مشتمل بنچ نے 23 اگسٹ کو آئندہ سماعت مقرر کی ہے۔ر
حکومت کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے درخواست گذار کو مزید تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ پراجکٹ کے سلسلہ میں متاثر ہونے والے افراد نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ر