کانگریس برسر اقتدار آنے پر ایک سال میں دو لاکھ سرکاری جائیدادوں پر تقررات

,

   

قیمتوں میں اضافہ کیلئے بی جے پی اور بی آر ایس دونوں ذمہ دار، حسن آباد میں صدر پردیش کانگریس کمیٹی ریونت ریڈی کی پد یاترا ، عوامی استقبال
حیدرآباد۔2 ۔مارچ (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے حکومت کو چیلنج کیا کہ زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے برقی سربراہی کو ثابت کریں۔ اگر حکومت 24 گھنٹے بلا وقفہ سربراہی ثابت کرتی ہے تو کانگریس پارٹی عوام سے ووٹ کی اپیل نہیں کرے گی۔ ریونت ریڈی نے ہاتھ سے ہاتھ جوڑو یاترا کے تحت 18 ویں دن حسن آباد اسمبلی حلقہ کا احاطہ کیا۔ انہوں نے صبح 9.00 بجے پد یاترا کا آغاز کرتے ہوئے گنڈی پلی پراجکٹ کا معائنہ کیا جس کے لئے کسانوں سے اراضی حاصل کی گئی تھی لیکن انہیں معاوضہ نہیں دیا گیا۔ ریونت ریڈی نے متاثرین سے بات چیت کی اور تیقن دیا کہ وہ متاثرین کو انصاف دلانے کیلئے جدوجہد کریں گے ۔ ریونت ریڈی نے پد یاترا کے دوران سماج کے مختلف طبقات بالخصوص خواتین بیروزگار نوجوانوں اور طلبہ سے بات چیت کی۔ انہوں نے ایس سی کالونی میں درجہ فہرست اقوام کے نمائندوں سے ملاقات کی ۔ حسن آباد کے امبیڈکر چوراہے پر ریونت ریڈی نے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کو اقتدار کا ایک موقع دیں۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ ریاست کے حصول کے بعد عوام نے کے سی آر کو دو مرتبہ اقتدار کا موقع دیا ہے لیکن تیسری مرتبہ اقتدار حاصل نہیں ہوگا۔ حسن آباد میں پد یاترا اور جلسہ عام کے موقع پر سابق اپوزیشن لیڈر کے جانا ریڈی اور سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر نے شرکت کی۔ ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ سدی پیٹ ضلع میں گنڈی پلی پراجکٹ کے نام پر غریبوں کو اراضیات سے محروم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملنا ساگر پراجکٹ پر حکومت کی توجہ ہے لیکن دیگر پراجکٹس کو نظر انداز کیا گیا۔ ریونت ریڈی نے پراجکٹس کے نام پر بڑے پیمانہ پر دھاندلیوں کا الزام عائد کیا۔ صدر پردیش کانگریس نے مہنگائی میں اضافہ کا حوالہ دیا اور کہا کہ مرکزی حکومت نے پٹرول ، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے غریب اور متوسط طبقات کا جینا محال کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ قیمتوں میں اضافہ کیلئے بی جے پی کے ساتھ بی آر ایس بھی مساوی ذمہ دار ہے کیونکہ مرکزی حکومت کے تمام اقدامات کی کے سی آر نے تائید کی تھی لیکن آج دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہوئے دھوکہ دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میں عوام کو اندرماں راج کا انتظار ہے اور کانگریس پارٹی ترقی اورفلاح و بہبود کے نئے دور کا آغاز کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے عوام سے جو وعدے کئے تھے ، انہیں فراموش کردیا گیا۔ پسماندہ طبقات، دلت اور اقلیتوں کو دھوکہ دیا گیا۔ انہوں نے چیف منسٹر ، ریاستی وزراء اور ارکان اسمبلی کو چیلنج کیا کہ کسی ایک برقی سب اسٹیشن کا دورہ کرتے ہوئے برقی سربراہی کا جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کو بمشکل 8 گھنٹے برقی سربراہ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ بنڈی سنجے ، کشن ریڈی اور دیگر قائدین تلنگانہ تحریک میں شامل نہیں تھے۔ بی جے پی دوسری پارٹیوں سے انحراف کی حوصلہ افزائی کے ذریعہ تلنگانہ میں قدم جمانا چاہتی ہے۔ ریونت ریڈی نے عوام سے وعدہ کیاکہ کانگریس برسر اقتدار آنے پر پکوان گیاس سلینڈر 500 روپئے میں فراہم کیا جائے گا۔ غریبوں کو مکانات کی تعمیر کیلئے 5 لاکھ روپئے کی امداد دی جائے گی ۔ کسانوں کو دو لاکھ روپئے کا قرض معاف کیا جائے گا اور آروگیہ شری اسکیم کے تحت 5 لاکھ روپئے تک کا علاج مفت رہے گا۔ ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ جنوری 2024 ء میں کانگریس برسر اقتدار آتے ہی 2 لاکھ مخلوعہ سرکاری جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے۔ تقررات کا عمل ایک سال میں مکمل کرلیا جائے گا ۔ پد یاترا کی کامیابی پر عوام سے اظہار تشکر کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ عوامی جوش و خروش سے واضح ہوچکا ہے کہ آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی۔ سابق اپوزیشن لیڈر کے جانا ریڈی ، سابق رکن پارلیمنٹ پونم پربھاکر ، سابق وزیر سدرشن ریڈی اور دوسروں نے خطاب کیا۔ر