کانگریس نے بینکوں کو ذاتی ملکیت کے طور پر استعمال کیا تھا:نرملا

   

نئی دہلی، 30 اکتوبر (یو این آئی) وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے آئی ڈی بی آئی بینک کے اسٹریٹجک حصص فروخت کرنے کے فیصلے پر کانگریس رہنما راہول گاندھی کے اس تبصرے پر جمعہ کو سخت ردعمل ظاہر کیا کہ کانگریس بینک بناتی تھی، مودی حکومت انہیں فروخت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی قیادت والی سابقہ حکومتوں کے دور میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کو اپنی ذاتی تنظیموں کی طرح استعمال کیا جاتا تھا اور بینک ملازمین پر دباؤ ڈال کر اپنے پسندیدہ لوگوں کو قرض دلوائے جاتے تھے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ڈی بی آئی بینک کی اسٹریٹجک تنظیم نو میں تمام مناسب طریقہ کار پر عمل کیا گیا ہے اور حکومت اس بات کو پہلے ہی واضح کر چکی ہے ۔وزیر خزانہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں آزادی کے کچھ عرصے بعد سے ہی کانگریس کے دور میں سامنے آنے والے مختلف مشہور مالیاتی گھپلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کانگریس نے اپنے دور حکومت میں بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کس طرح اپنی ذاتی تنظیموں کے طور پر استعمال کیا اور قرض دینے کے محتاط ضابطوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بینک ملازمین پر اپنی مرضی کے مطابق قرض دینے کیلئے دباؤ ڈالا۔اسی سلسلے میں انہوں نے کہا کہ 1957میں کانگریس رہنماؤں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہری داس مونڈھرا کو ایل آئی سی (لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا) سے رقم ملی تھی۔
1976 میں اندرا گاندھی کی حکومت نے اسٹیٹ بینک کے چیئرمین آر کے تلوار کو اس لیے عہدے سے ہٹا دیا تھا کہ انہوں نے سنجے گاندھی کے قریبی شخص سے وابستہ ایک کمپنی کو قرض دینے کی شرائط میں نرمی کرنے کے سیاسی دباؤ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔سیتارمن نے ماروتی کو قرض دینے کے معاملے میں سنجے گاندھی کی جانب سے سینٹرل بینک آف انڈیا پر مبینہ دباؤ ڈالنے ، 1980 کی دہائی میں اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے دور حکومت میں وزیر مملکت برائے خزانہ رہنے والے بی جناردھن پجاری کی جانب سے بینک ملازمین پر قرض جاری کرنے کیلئے دباؤ ڈالنے اور متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے ) حکومت کے دور میں وزیر کی حیثیت سے پون کمار بنسل کی جانب سے اپنے خاندان سے وابستہ کاروباروں کو قرض دینے کیلئے کینرا بینک پر دباؤ ڈالنے جیسے معاملات کا بھی ذکر کیا۔