کانگریس وار روم سے گرفتار کارکنوں کو راحتہائی کورٹ کا پولیس کی نوٹس پر حکم التواء

   

حیدرآباد ۔22 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میں کانگریس کے وار روم پر پولیس دھاوے کے معاملہ میں ہائی کورٹ نے محروس تین نوجوانوں کو راحت دی ہے۔ جسٹس کے سریندر نے عبوری فیصلہ میں محروس تینوں نوجوانوں کے خلاف جاری کردہ سی آر پی سی 41-A نوٹس پر حکم التواء جاری کردیا۔ ان نوجوانوں کو چیف منسٹر کے خلاف قابل اعتراض پوسٹ کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ جسٹس کے سریندر نے ایشانک شرما ، ٹی پرشانت اور ایم سری پرتاپ کی درخواست کی سماعت کے بعد حکم التواء جاری کیا ۔ پولیس نے انہیں حرات میں لیا تھا اور کانگریس سے عدالت میں حبس بیجا درخواست داخل کرنے کے بعد رہا کردیا گیا ۔ عدالت نے پولیس کی نوٹس پر حکم التواء جاری کرکے 23 ڈسمبر کو فیصلہ کا اعلان کیا۔ فیصلہ میں پولیس کی نوٹس کی قانونی نوعیت پر عدالت اپنی رائے دے گی۔ واضح رہے کہ پولیس نے تحقیقاتی افسر کے روبرو پیش ہونے نوٹس جاری کی تھی۔ نوجوانوں کی پیروی میں سینئر کونسل سی وی موہن ریڈی نے کہا کہ پولیس نے غیر ضروری مقدمہ درج کیا۔ پبلک پراسیکیوٹر نے کہا کہ کانگریس نے تینوں نوجوانوں کو بی آر ایس کے خلاف مہم کی ذمہ داری دی اور سوشیل میڈیا پر چیف منسٹر اور بی آر ایس کے خلاف پوسٹ کئے جارہے ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے حکومت سے ہر نوجوان کو 20 لاکھ روپئے معاوضہ کا مطالبہ کیا کیونکہ انہیں 18 گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا تھا۔ر