کانگریس کا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ

   

بنگلورو، 19 جولائی (یو این آئی) کانگریس نے اتوار کو مبینہ طور پر بار بار ہونے والے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملات پر مرکزی حکومت کے خلاف اپنا حملہ تیز کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی نگرانی میں ملک گیر تحقیقات کرانے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ بار بار ہونے والی ان خلاف ورزیوں نے “بھارت کے نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ” اور ملک کے امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد متزلزل کر دیا ہے ۔بنگلورو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرناٹک کانگریس کے صدر بی کے ہری پرساد نے کہا کہ یہ معاملہ اب کسی ایک امتحان تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ پورے امتحانی نظام کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے ، جس نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ہوں اور ان کی نگرانی خود سپریم کورٹ کرے تاکہ جانچ سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر آزاد رہے ۔ہری پرساد نے کہاکہ “یہ کسی ایک امتحان کے خلاف لڑائی نہیں، بلکہ لاکھوں طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کی جدوجہد ہے ۔”کانگریس کے حملے کو مزید تیز کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ 2014 سے اب تک ملک بھر میں 152 امتحانی پرچے لیک ہو چکے ہیں، جن میں سے کئی واقعات بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں پیش آئے ۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض معاملات کی تحقیقات میں مہاراشٹر، راجستھان، مدھیہ پردیش اور گجرات سمیت مختلف ریاستوں میں بی جے پی رہنماؤں کے اہل خانہ کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔ہری پرساد نے کہا کہ دھرمیندر پردھان کو بار بار ہونے والے پرچہ لیک واقعات کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ گزشتہ دس برسوں میں کتنے امتحانی پرچے لیک ہوئے ، ان میں سے کتنے معاملات میں سزا ہوئی، اور بار بار یقین دہانیوں کے باوجود ایسے واقعات کیوں نہیں رک سکے ۔