بائیک نذر آتش، آر ٹی سی بسوں پر حملہ، ریونت ریڈی اور سینئر قائدین کی گرفتاری، گھنٹوں ٹریفک جام
حیدرآباد 16 جون (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کا چلو راج بھون احتجاج اچانک پرتشدد رنگ اختیار کرلیا اور احتجاجیوں نے نہ صرف ایک بائیک کو آگ لگادی بلکہ آر ٹی سی بسوں پر حملہ کرتے ہوئے نقصان پہنچایا۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے سونیا گاندھی، راہول گاندھی کو نوٹس کی اجرائی کے خلاف کانگریس پارٹی ملک بھر میں مسلسل تین دن سے احتجاج کررہی ہے۔ پردیش کانگریس کمیٹی نے آج چلو راج بھون احتجاج کا اعلان کیا اور خیریت آباد میں واقع پی جے آر مجسمہ سے راج بھون تک ریالی کا منصوبہ تھا۔ پولیس نے راج بھون کے اطراف اور خیریت آباد کے علاقہ میں سخت ترین انتظامات اور رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوئے کانگریس قائدین اور کارکنوں کو راج بھون کی طرف جانے سے روک دیا۔ جیسے ہی صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی خیریت آباد پہونچے اور پولیس نے اُنھیں روکنے کی کوشش کی، اُس پر کانگریس کارکن برہم ہوگئے اور بے قابو ہوکر پولیس سے اُلجھ پڑے۔ کانگریس کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی اور خیریت آباد کا علاقہ عملاً میدان جنگ کا منظر پیش کررہا تھا۔ پولیس نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے کارکنوں کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس کے بعد کئی قائدین پولیس کا حصار توڑ کر راج بھون کی طرف بڑھنے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کی نگرانی میں زائد فورس طلب کرلی گئی اور ریونت ریڈی کے بشمول دیگر قائدین کو حراست میں لے کر شہر کے مختلف پولیس اسٹیشنوں کو منتقل کردیا گیا۔ گزشتہ 8 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس کا کوئی احتجاج اِس قدر بڑے پیمانے پر ہوا اور پولیس کو احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کرنی پڑی۔ کانگریس قائدین اور پولیس عہدیداروں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی۔ ریونت ریڈی کو گرفتار کرتے ہوئے بولارم پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا اور اِن کی گرفتاری کے وقت کارکنوں نے سخت مزاحمت کی۔ گرفتار کئے گئے قائدین میں بھٹی وکرامارکا، جگا ریڈی، گیتاریڈی، بوس راجو، سرینواس کرشنن، وی ہنمنت راؤ، مہیش کمار گوڑ، انجن کمار یادو، سنیتا راؤ، رینوکا چودھری، عظمت اللہ حسینی، سریدھر بابو اور دیگر قائدین شامل ہیں۔ احتجاج کے دوران صورتحال اُس وقت بگڑ گئی جب احتجاجیوں نے ایک بائیک کو آگ لگادی اور آر ٹی سی بسوں کے آئینوں کو نقصان پہنچایا۔ پولیس کے طاقت کے استعمال کے ساتھ ہی صورتحال بے قابو ہوگئی اور افراتفری کا ماحول تھا۔ کانگریس قائدین نے پولیس بیریکیٹ توڑ کر راج بھون کی طرف بڑھنے کی کوشش کی۔ بھٹی وکرامارکا، جگاریڈی، انجن کمار یادو، ملو روی، سنیتا راؤ اور دوسروں کو گوشہ محل منتقل کیا گیا جبکہ رینوکا چودھری کو گولکنڈہ پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ ریونت ریڈی، روہن ریڈی، انیل کمار یادو اور دوسروں کو بولارم پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا۔ سریدھر بابو، مہیش کمار گوڑ، شیوا سینا ریڈی پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن منتقل کئے گئے۔ سابق اپوزیشن لیڈر جانا ریڈی نے گوشہ محل پہونچ کر گرفتار کئے گئے قائدین سے ملاقات کی۔ اے آئی سی سی کے سکریٹریز کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ پولیس لاٹھی چارج میں کانگریس کے کئی کارکن زخمی ہوگئے۔ احتجاجیوں کی گرفتاری اور لاٹھی چارج کے ذریعہ منتشر کرنے میں پولیس کو کافی دقت ہوئی اور کئی گھنٹوں تک اطراف کے علاقوں میں ٹریفک جام رہی۔ ر