ریونت ریڈی اور بھٹی وکرمارکا عوام کے درمیان ، دیگر قائدین کا عنقریب فیصلہ
حیدرآباد: تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کو اقتدار پر واپس لانے کیلئے قائدین نے پد یاترا کا راستہ اختیار کیا ہے جو سابق میں آنجہانی وائی ایس راج شیکھر ریڈی کو اقتدار تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوا تھا۔ متحدہ آندھراپردیش کی تاریخ میں راج شیکھر ریڈی نے 2002 کے اوائل میں 1500 کیلو میٹر کی تاریخی پد یاترا کی تھی جس کے نتیجہ میں 2004 ء میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا اور راج شیکھر ریڈی چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ این چندرا بابو نائیڈو نے 2012 ء میں 200 دنوں تک پد یاترا کرتے ہوئے 2800 کیلو میٹر کا احاطہ کیا تھا ۔ وائی ایس جگن موہن ریڈی نے 2017-18 ء میں 3600 کیلو میٹر پد یاترا کی تھی اور 2019 ء میں انہیں اقتدار حاصل ہوا ۔ پد یاترا کے ذریعہ اقتدار تک پہنچنے کی کامیاب روایت کی تقلید کرتے ہوئے کانگریس رکن پارلیمنٹ اے ریونت ریڈی اور سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے دو علحدہ پد یاتراؤں کا آغاز کیا ہے تاکہ کسانوں کے مسائل سے واقفیت حاصل کرسکیں۔ ریونت ریڈی نے چار دن قبل اچم پیٹ سے پد یاترا شروع کی جو حیدرآباد کے سرور نگر پہنچ کر اختتام پذیر ہوگی۔ دوسری طرف بھٹی وکرمارکا نے عادل آباد سے اپنی کسان بھروسہ یاترا شروع کی ہے۔ کسانوں سے دوبدو ملاقات کرتے ہوئے وہ مرکزی و ریاستی حکومت کی پالیسیوں کو بے نقاب کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے دیگر قائدین جگا ریڈی ، کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اور وی ہنمنت راؤ بھی پد یاترا کی تیاریاں کر رہے ہیں ۔ پارٹی اعلیٰ کمان نے اگرچہ قائدین کو پد یاترا کے سلسلہ میں کوئی رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کئے لیکن قائدین نے اپنے طور پر محدود پیمانہ پر پد یاترا کا آغاز کیا ہے ۔ پارٹی کے انچارج جنرل سکریٹری مانکیم ٹیگور ایم پی کو تجویز پیش کی گئی ہے کہ وہ ریاستی سطح پر پد یاترا کی منصوبہ بندی کریں جس میں تمام سینئر قائدین کو شامل کرتے ہوئے 2023 ء میں پارٹی کو برسر اقتدار لانے کا نشانہ مقرر کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ نئے صدر پردیش کانگریس کے اعلان کے بعد ہائی کمان اس بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا۔