کانگریس کی پولیٹکل افیرس کمیٹی اور اڈوائزری کمیٹی کا آج اہم اجلاس

   

بی سی تحفظات اور پنچایت راج چناؤ اہم ایجنڈہ ، میناکشی نٹراجن ، ریونت ریڈی اور سینئر قائدین کی شرکت، پارٹی سطح پر 42 فیصد تحفظات کا امکان
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اگست (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کی پولیٹیکل افیرس کمیٹی اور اڈوائزری کمیٹی کا مشترکہ اجلاس کل 23 اگست کو 5 بجے شام گاندھی بھون کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوگا۔ اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ میناکشی نٹراجن اجلاس کی صدارت کریں گے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی، صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ ، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا، ریاستی وزراء اور دونوں کمیٹیوں کے ارکان شرکت کریں گے۔ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات کی فراہمی اور پنچایت راج اداروں کے انتخابات اجلاس کا اہم ایجنڈہ رہیں گے۔ حکومت نے تعلیم ، روزگار اور مجالس مقامی میں پسماندہ طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کرتے ہوئے اسمبلی میں دو علحدہ بلز منظور کئے ۔ اس کے علاوہ مجالس مقامی میں 42 فیصد بی سی تحفظات پر عمل آوری کے لئے آرڈیننس تیار کیا گیا۔ یہ تینوں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کے پاس گزشتہ تین ماہ سے زیر التواء ہے ۔ بلز کی منظوری کیلئے کانگریس نے نئی دہلی میں دھرنا منظم کیا اور صدر جمہوریہ سے نمائندگی کی کوشش کی ۔ صدر جمہوریہ سے ملاقات کا وقت حاصل نہیں ہوا۔ اسی دوران تلنگانہ حکومت کو ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق 30 ستمبر تک پنچایت راج اداروں کے انتخابات مکمل کرنے ہیں۔ اب جبکہ ہائی کورٹ کی مہلت کے لئے محض ایک ماہ باقی ہے، حکومت نے تحفظات پر عمل آوری کی حکمت عملی طئے کرنے کیلئے پولیٹیکل افیرس کمیٹی اور اڈوائزری کمیٹی کا مشترکہ اجلاس طلب کیا ہے۔ اس کمیٹی میں پارٹی کے سینئر قائدین شامل ہیں جن سے مشاورت کرتے ہوئے تحفظات پر عمل آوری کی حکمت عملی طئے کی جائے گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بلز کی عدم منظوری کی صورت میں حکومت کے پاس دو امکانات باقی رہتے ہیں۔ حکومت جی او کی اجرائی کے ذریعہ تحفظات کو فراہم کرسکتی ہے تاہم اس بات کا اندیشہ ہے کہ جی او کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے۔ پارٹی نے بلز کی عدم منظوری کی صورت میں پنچایت راج اداروں کے چناؤ میں پارٹی کی سطح پر پسماندہ طبقات کو 42 فیصد ٹکٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ اجلاس میں مباحث کے بعد کیا جائے گا۔ پنچایت راج قانون 2018 کے تحت مجموعی تحفظات کی حد 50 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ حکومت نے قانون میں ترمیم کے ذریعہ 42 فیصد تحفظات کا فیصلہ کرتے ہوئے آرڈیننس کا مسودہ گورنر کو روانہ کیا تھا۔ گورنر نے آرڈیننس کو صدر جمہوریہ سے رجوع کردیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اجلاس میں پنچایت راج چناؤ کے انعقاد پر اہم فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت انتخابی وعدہ کی تکمیل کرتے ہوئے پارٹی کی سطح پر 42 فیصد بی سی امیدواروں کو ٹکٹ جاری کرسکتی ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے پنچایت راج چناؤ کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے اور حکومت کی جانب سے تحفظات کو طئے کرنے کے ساتھ ہی الیکشن شیڈول جاری کیا جائے گا۔ مجالس مقامی کے چناؤ میں کانگریس کے بہتر مظاہرہ کیلئے پسماندہ طبقات کی تائید ناگزیر ہے۔ ایسے میں 42 فیصد ٹکٹ پسماندہ طبقات کوالاٹ کرتے ہوئے کانگریس پارٹی انتخابی وعدہ کی تکمیل کا دعویٰ کرسکتی ہے۔ تحفظات بلز کی عدم منظوری کیلئے بی آر ایس اور بی جے پی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انتخابی مہم چلائی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق پنچایت راج الیکشن کے علاوہ کالیشورم پر جسٹس پی سی گھوش کمیشن رپورٹ پر بھی مباحث کا امکان ہے۔1