مہاراشٹرا کے سرکاری اسکول میں بغیر اجازت داخل ہونے اور دھمکانے کا الزام
ممبئی ۔23؍اگست ( ایجنسیز )کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے کنوینر ابھیجیت ڈپکے کے خلاف مہاراشٹرا کے لاتور میں ایک سرکاری اسکول میں بغیر اجازت داخل ہونے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ۔ ڈپکے، پارٹی کارکن اجنکیا شندے اور دیگر کے خلاف اوسا پولیس اسٹیشن میں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی۔ان پر لاتور ضلع کے شہر اوسا کے قریب جوالی میں واقع زیڈ پی اردو اسکول میں سرکاری کام میں خلل ڈالنے اور اساتذہ کو دھمکیاں دینے کا الزام ہے۔یہ ایف آئی آر ضلع پریشد اردو اسکول کے ایک ٹیچر سید شمشاد بانو خیراتلی (53) کی شکایت پردرج کی گئی۔ڈپکے اور دیگر کے خلاف بی این ایس کی دفعہ 132 (سرکاری ڈیوٹی کو انجام دینے سے روکنے کے لیے حملہ یا مجرمانہ طاقت کا استعمال) اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق ڈپکے اور اس کے ساتھیوں پر الزام ہے کہ وہ حکام کی اجازت کے بغیر اسکول کے احاطہ میں داخل ہوئے تھے۔ مبینہ طور پر انہوں نے طلباء کے ساتھ بیٹھ کر اسکول کے حالات پر سوالات اٹھائے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ وہ تعلیمی اور سرکاری کام میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔شکایت میں کہا گیا کہ CJP لیڈر نے اپنے دورے اور طلباء کے ساتھ بات چیت کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کیں اور اسے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا۔ڈپکے نے مبینہ طور پر زیڈ پی اردو اسکول کو بدنام کرنے کی کوشش کی کیونکہ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے دورے کے دوران دوسرے اسکول کے طلباء کو لا کر کلاس رومز میں بٹھایا گیا تھا۔ اسپر الزام لگایا کہ انہوں نے اساتذہ کو معطل کرنے کی دھمکی بھی دی۔کاکروچ جنتا پارٹی کے اراکین اپنی اسکول ٹھک کرو مہم کے تحت سرکاری اسکولوں کا دورہ کر رہے ہیں جو 15 اگست کو ملک کے یوم آزادی پر شروع کی گئی تھی۔یہ پروگرام جس میں ملک بھر کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم اور سہولیات میں اصلاحات کی کوشش کی گئی ہے، ہنگولی میں ڈپکے کے آبائی گاؤں سے شروع کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے CJP ممبران نے مختلف ریاستوں میں کئی اسکولوں کا دورہ کیا ہے جبکہ کچھ میں انہیں مخالفت کا بھی سامنا ہے۔جمعہ کو جے پور کے رام پورہ کنور پورہ میں ایک سرکاری اسکول کا دورہ کرنے پر ٹیم پر لوگوں نے مبینہ طور پر حملہ کیا۔ممبئی میں شہری تعلیم کے محکمے نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے رضاکاروں کو میونسپل اسکولوں میں بغیر اجازت داخل ہونے سے روک دیا ہے۔