کتنے جملے اچھالتے ہیں آپ

   

کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ … مودی حکومت کو لوک سبھا میں شکست
ہوئے تم دوست جس کے … نتیش کمار سے بی جے پی کا دھوکہ

رشیدالدین
’’کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ‘‘ خواتین سے ہمدردی کے نام پر نریندر مودی 2029 الیکشن میں کامیابی کا اسکیچ تیار کر رہے تھے لیکن اپوزیشن کے اتحاد کے نتیجہ میں یہ کوشش ناکام ہوگئی ۔ لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں دو دن تک مباحث میں جمہوری طاقتوں کو آخرکار کامیابی ملی اور لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کا فیصلہ حکومت کو واپس لینا پڑا۔ حکومت کی تجویز کے حق میں 298 اور مخالفت میں 230 ارکان نے ووٹ دیا۔ خاص بات یہ رہی کہ اپوزیشن اس مسئلہ پر راہول گاندھی کی قیادت میں متحد دیکھا گیا۔ اقتدار کو شمالی ریاستوں کے ذریعہ ہڑپنے کی سازش کو ناکام بنانے میں راہول گاندھی کا اہم رول ہے۔ جنوبی ریاستوں ٹاملناڈو ، کیرالااور تلنگانہ کے چیف منسٹرس کی مساعی بھی کامیاب رہی۔بل کا نام تو بظاہر خواتین کو تحفظات کی فراہمی تھا لیکن اس کی آڑ میں لوک سبھا حلقہ جات کی از سر نو حدبندی اور لوک سبھا حلقوں کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا تھا تاکہ آئندہ ہندی ریاستوں کی طاقت پر اقتدار حاصل کیا جاسکے۔ نئی قانون سازی کے ذریعہ جنوبی اور بالخصوص ان ریاستوں کی سیاسی طاقت کو بے اثر کردیا جائے گا جو روایتی طور پر مخالف بی جے پی ہیں۔ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں مرکزی حکومت نے تین بلز کو یکجا کرتے ہوئے سیاسی مقصد کی تکمیل کرلی ہے اور یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ نریندر مودی خواتین کے واحد ہمدرد ہیں۔ نریندر مودی لوک سبھا میں ویمنس ریزرویشن کی تائید میں ناری شکتی کا دعویٰ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ان کا جائز حق دینے کا وقت آچکا ہے۔ نریندر مودی کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی ہمارے ذہن میں خیال ہے کہ جشودا بین کے اچھے دن شائد لوٹ آئیں گے ۔ نریندر مودی اپنی شریک حیات کو گھر واپسی کی شائد تیاری کر رہے ہیں، کاش ایسا ہوجائے۔ خواتین کے حقوق اور ناری شکتی کی باتیں نریندر مودی کی زبان سے اچھی نہیں لگتی کیونکہ اس معاملہ میں ان کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں ہے۔ خواتین کو قانون ساز اداروں یعنی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں 33 فیصد تحفظات کی فراہمی سے قبل نریندر مودی کو اپنی شریک حیات کو گھر میں جگہ دینی چاہئے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ نیکی کا آغاز گھر سے ہونا چاہئے۔ ناری شکتی اور ویمن امپاورمنٹ کے معاملہ میں نریندر مودی کا حال چراغ تلے اندھیرے کی طرح ہے۔ جشودا بین کو بھی اپنے شوہر نامدار کی پارلیمنٹ میں تقریر کے بعد امید جاگی ہوگی کہ اب گھر واپسی قریب ہے اور نشستوں کی تعداد میں اضافہ کے بعد خواتین کی کسی محفوظ لوک سبھا حلقہ سے انہیں منتخب کیا جاسکتا ہے۔ جس شخص نے اگنی کے 7 پھیروں کے ذریعہ 7 جنم تک نبھانے کی قسم کھائی ہو، انہوں نے محض کچھ عرصہ میں زندگی کے ساتھی کو بیگانہ بنادیا جو پتہ نہیں کس گوشہ گمنامی میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں عددی طاقت کی بنیاد پر بی جے پی کو کسی بل حتیٰ کہ دستوری ترمیم میں کوئی رکاوٹ نہیں رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اقتدار کی راہ میں جنوبی ریاستوں کی اہمیت کو گھٹانا چاہتی ہے۔ نشستوں کی تعداد میں اضافہ بظاہر تمام ریاستوں میں ہوگا لیکن سیاسی طاقت کے اعتبار سے شمالی ریاستوں کو بادشاہ گر کا موقف حاصل ہوگا۔ بی جے پی کو آئندہ تشکیل حکومت کے لئے جنوبی ریاستوں پر انحصار کی ضرورت نہیں پڑے گی اور ہندی بیلٹ کی نشستیں کافی ہوجائیں گی۔ لوک سبھا حلقہ جات کی از سر نو حدبندی اور نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیلئے مردم شماری 2011 کو بنیاد بنایا جارہا ہے جبکہ مردم شماری 2026 کا آغاز ہوچکا ہے لیکن بی جے پی انتظار کیلئے تیار نہیں۔ جنوبی ریاستوں نے 1975 کے بعد سے خاندانی منصوبہ بندی پر موثر عمل کیا جس کے نتیجہ میں ان ریاستوں کی آبادی کم ہے۔ قانون سازی کے نتیجہ میں کم آبادی والی ریاستوں کو بھاری نقصان ہوگا ۔ مودی حکومت کے اس فیصلہ نے شمال اور جنوب کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کردی ہے۔ بی جے پی کے چانکیہ امیت شاہ نے مخالف بی جے پی ریاستوں کی سیاسی طاقت کو گھٹانے کی منصوبہ بندی کی ہے اور 2029 میں تیسری مرتبہ اقتدار کا راستہ ہموار کیا جارہا ہے ۔ اس اہم ترین مسئلہ پر قومی اتفاق رائے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور اپوزیشن کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک پر فیصلے مسلط کئے جارہے ہیں۔ بی جے پی دستوری ترمیم کے ذریعہ ایسی پارلیمنٹ تشکیل دینا چاہتی ہے جہاں اپوزیشن کی کوئی آواز نہ ہو۔ اپوزیشن کا مطالبہ واجبی ہے کہ مردم شماری 2026 کی بنیاد پر نشستوں کی تعداد میں اضافہ ہو تاکہ کمزور اور پسماندہ طبقات کے ساتھ انصاف ہوسکے۔ لوک سبھا کی نشستوں کو 543 سے بڑھاکر 850 کرنے کی تجویز ہے اور تمام ریاستوں کو نشستوں میں اضافہ کا لالی پاپ دیا گیا ہے۔ اترپردیش کی نشستیں 80 سے بڑھ کر 138 ہوجائیں گی جبکہ بہار میں 40 سے 72 ، راجستھان 25 سے 47 ، مدھیہ پردیش 29 سے 50 اور مہاراشٹرا میں 48 سے 78 کا اضافہ ہوگا۔ کیرالا ، ٹاملناڈو ، آندھراپردیش ، تلنگانہ ، اڈیشہ اور پنجاب میں کم آبادی کے سبب محض چند نشستوں کا اضافہ ہوگا۔ بی جے پی کو 2029 میں کامیابی کیلئے اترپردیش ، بہار ، راجستھان ، مدھیہ پردیش ، دہلی ، مہاراشٹرا ، گجرات اور ہریانہ کی نشستیں کافی ہوجائیں گی۔ شمالی ریاستوں میں چند ایک نشستیں ضرور بڑھ سکتی ہے لیکن ریاستوں کا سیاسی وزن گھٹ جائے گا ۔ مرکز کے اقتدار میں جنوبی ریاستوں اور چھوٹی ریاستوں کی اہمیت اور حصہ داری ختم ہوجائے گی۔ جن ریاستوں میں بی جے پی کا اثر کم ہے ، انہیں قانون کے ذریعہ نشانہ بنایا جارہا ہے۔ دستوری ترمیم کے ذریعہ ملک کو سیاسی طور پر تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے گا اور ہندی بیلٹ کے ذریعہ حکمرانی کا خواب سجایا جارہا ہے ۔ خواتین تحفظات بل پر 2023 میں اتفاق رائے ہوچکا تھا اور اس کی رسمی منظوری باقی ہے لیکن بی جے پی جس نے سابق میں تحفظات کی مخالفت کی ، وہ اس مرتبہ تحفظات کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے۔
لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن راہول گاندھی اور کانگریس رکن پرینکا گاندھی نے نہ صرف نریندر مودی بلکہ امیت شاہ کے دعوؤں کا بھرپور جواب دیا اور حکومت کے درپردہ سیاسی مقاصد ملک کے سامنے پیش کردیا۔ مودی حکومت دراصل جمہوریت پر کھلا وار کر رہی ہے اور اسے تحفظات کے نام پر او بی سی خواتین سے ناانصافی کا موقع مل جائے گا۔ جنوبی ریاستوں میں مرکز کے فیصلہ کے خلاف متحدہ جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری طرف سیاسی ہنگاموں کے درمیان بہار میں نتیش کمار کے طویل سیاسی دور کا اچانک خاتمہ ہوگیا۔ بی جے پی نے منصوبہ بند طریقہ سے نتیش کمار کو آگے رکھتے ہوئے 2025 کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اقتدار ملتے ہی نتیش کمار کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ الیکشن میں بی جے پی نے نعرہ لگایا تھا کہ ’’ 2025 سے 2030 پھر سے نتیش‘‘ لیکن محض 100 دنوں میں بہار سے نتیش کمار کے سیاسی عہد کا خاتمہ کردیا گیا ۔ بہار کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بی جے پی چیف منسٹر بن چکا ہے۔ اس عہدہ کیلئے سمراٹ چودھری کو منتخب کیا گیا جو انتہائی متنازعہ اور فرقہ وارانہ ذہنیت کے حامل بتائے جاتے ہیں ۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ امیت شاہ کے شاگرد خاص سمراٹ چودھری کی حکمرانی اترپردیش کے یوگی ادتیہ ناتھ کی طرح رہے گی۔ نتیش کمار 20 برس تک بہار کے ناقابل چیلنج لیڈر بنے رہے اور ان کی سیاسی بصیرت کا ہر کوئی قائل ہے۔ نتیش کمار کے دور میں نہ صرف بہار میں امن و ضبط قابو میں رہا بلکہ غریبوں کی بھلائی ہوئی ۔ امیت شاہ نے سمراٹ چودھری کو چیف منسٹر بناتے ہوئے ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل آوری کا آغاز کردیا ہے ۔ نتیش کمار کے فرزند نشانت کمار کو سیاسی وارث کے طور پر دیکھا جارہا تھا لیکن انہیں بھی نظر انداز کردیا گیا۔ مبصرین کے مطابق بہار میں جنتا دل یونائٹیڈ کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ جس طرح بی جے پی نے شیوسینا ، این سی پی اور دیگر حلیف علاقائی پارٹیوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے، آنے والے دنوں میں بہار میں جنتا دل یونائٹیڈ کا کچھ یہی حشر ہوگا۔ 2025 میں عوام نے بی جے پی کے حق میں نہیں بلکہ نتیش کمار کی قیادت کو ووٹ دیا تھا لیکن امیت شاہ کی حکمت عملی کے نتیجہ میں نتیش کو راجیہ سبھا منتقل کرتے ہوئے بہار کے اقتدار پر قبضہ کرلیا گیا ہے۔ ’’ ہوئے تم دوست جن کے دشمن ان کا آسماں کیوں ہو‘‘ کے مصداق نریندر مودی اور امیت شاہ نے اپنی ایک اور حلیف پارٹی کے ساتھ دھوکہ کرتے ہوئے ایک اور ریاست کو عملاً اپنے قبضہ میں لے لیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو بی جے پی کا اگلا نشانہ بن سکتے ہیں لیکن چندرا بابو نائیڈو سے نمٹنا بی جے پی کے لئے آسان نہیں۔ لوک سبھا میں نریندر مودی کی جملہ بازی پر ندیم فرخ نے کیا خوب کہا ہے ؎
کتنے جملے اچھالتے ہیں آپ
سب کو حیرت میں ڈالتے ہیں آپ