حیدرآباد۔/24 فروری، ( سیاست نیوز) جمعرات کی شب علاقہ کرمن گھاٹ میں گاؤ رکھشکوں پر مبینہ حملہ اور اس کے بعد فرقہ وارانہ نوعیت کی کشیدگی میں کئی حقائق رونما ہوئے ہیں۔ بڑے جانوروں کے تاجرین کا مندر میں داخل ہونے کا گاؤ رکھشکوں کا دعویٰ غلط ثابت ہوا۔ واقعہ کے بعد یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بڑے جانوروں کے تاجرین نے گاؤ رکھشکوں کا تعاقب کرتے ہوئے ہنومان مندر میں داخل ہوکر انہیں زد و کوب کیاجبکہ ہنومان مندر کے ٹرسٹ ڈائرکٹر یادی ریڈی نے بتایا کہ زدوکوب کا دعویٰ غلط ہے جبکہ مندر کے احاطہ میں کوئی بھی جھگڑا نہیں ہوا۔ پولیس نے اس سلسلہ میں جملہ 5 مقدمات درج کئے ہیں جن میں ایک مقدمہ بڑے جانوروں کے تاجرین اور 4 مقدمات گاؤ رکھشکوں پر درج کئے گئے کیونکہ انہوں نے سرکاری املاک اور پولیس ملازمین پر سنگباری کرتے ہوئے حملہ کیا تھا۔ب