کرناٹک اسمبلی انتخابات ، قومی سیاسی مرکز میں تبدیل ہونے کے امکانات

   


جنوبی ہند کی ریاستوں کے حلقہ اثر میں اضافہ کے لیے کانگریس اور بی جے پی حکمت عملی کی تیاریوں میں مصروف
حیدرآباد۔ 11۔اکٹوبر(سیاست نیوز) قومی سیاست میں جنوبی ہند کے کردار میں اضافہ ہونے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی شمالی ہند کی پارٹی کی امیج کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جو امیج ہے وہ شمالی ہند کی سیاسی جماعت کی ہے اور کانگریس ملک بھر میں اپنا حلقہ اثر رکھنے کے باوجود جنوبی ہند کی کسی بھی ریاست میں اقتدار حاصل کرنے میں ناکام ہے اور جنوبی ہند کی ریاستوں میں علاقائی سیاسی جماعتیں اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہورہی ہیں لیکن اب کانگریس نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں کس قدر اثرانداز ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ کانگریس نے پی وی نرسمہا راؤ کے بعد اب پہلی مرتبہ جنوبی ہند سے اپنے قومی صدر کے انتخاب کا فیصلہ کیا ہے اور کانگریس پارٹی کے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل دونوں قائدین ملکارجن کھرگے اور ششی تھرور کا تعلق جنوبی ہند کی ریاستوں سے ہے۔ بھارتیہ جنتاپارٹی کی جانب سے جنوبی ہند کی ریاستوں میں اپنے حلقہ اثر میں اضافہ کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور کانگریس کی توجہ بھی جنوبی ہند کی ریاستوں پر ہے اور ان دو قومی جماعتو ںکے درمیان چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے اپنی سیاسی جماعت تلنگانہ راشٹر سمیتی کو بھارتیہ راشٹر سمیتی میں تبدیل کرتے ہوئے قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ کرناٹک اسمبلی انتخابات قومی سیاسی مرکز میں تبدیل ہوسکتے ہیں کیونکہ کانگریس کرناٹک میں اقتدار کے حصول کے لئے کی جانے والی کوشش میں مصروف ہے اور کہا جار ہاہے کانگریس اعلیٰ کمان نے ملکارجن کھرگے کی تائید کا فیصلہ کیا ہے جن کا تعلق کرناٹک سے ہے اور کھرگے اگر کانگریس کے صدر منتخب ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں کرناٹک میں کانگریس کو اقتدار حاصل کرنے کے امکانات میں اضافہ ہونے کی توقع ہے ۔ علاوہ ازیں راہول گاندھی کی جنوبی ہند سے شروع ہونے والی یاترا کے سبب بھی جنوبی ہند کی ریاستیں قومی سیاست میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ کانگریس کی جنوبی ہند پر توجہ کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں بی جے پی کمزور ہونے کے سبب کانگریس جنوبی ہند میں خود کو مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے جبکہ کے چندر شیکھر راؤ کی بھارت راشٹر سمیتی بھی کرناٹک انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے اپنی قومی سیاسی سرگرمیوں کا عملی طور پر آغاز کرسکتی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے آندھرا پردیش میں نئے اتحاد کی تشکیل کے علاوہ کرناٹک میں اقتدار کی برقراری اور تلنگانہ میں اقتدار کے حصول کے لئے حکمت عملی تیار کی جار ہی ہے تاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی شمالی ہند والی امیج کو تبدیل کیا جاسکے۔م