بنگلورو: کرناٹک میں چہارشنبہ کو دائیں بازو کے ایک گروپ کرناٹک رکشنا ویدیکے، جو کنڑ زبان کے جبری استعمال پر زور دے رہا ہے اس کے ارکان کے دارالحکومت بنگلورو میں بشمول کیمپے گوڑا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور اعلیٰ سطح کے کاروبار پر پرتشدد مظاہروں کے بعد کرناٹک میں زبان کا تنازعہ تیزی سے بڑھ گیا۔ آج بنگلورو میں کئی مقامات پر مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے ایرپورٹ، ہوٹلوں، دکانوں اورخانگی کمپنیوں کے دفاتر کے باہر توڑ پھوڑ کی۔شرپسندوں نے ان جگہوں کو نشانہ بنایا جن کے سائن بورڈز پر کنڑ کے بجائے ہندی یا انگریزی لکھا ہوا تھا۔ مظاہرین نے ایسے سائن بورڈز کو پھاڑ دیا یا انہیں کالا کر دیا۔دکانوں اور کاروباری اداروں کے انگریزی زبان کے سائن بورڈز کو کرناٹک رکشنا ویدیکے، کے غنڈوں نے نقصان پہنچایا ۔ پولیس نے کے آر وی کنوینر ٹی اے نارائن گوڑا سمیت کئی مظاہرین کو حفاظتی تحویل میں لے لیا ہے۔
درحقیقت بروہت بنگلورو میونسپل کارپوریشن (بی بی ایم پی) نے 25 دسمبر کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھاجس میں شہر کی تمام دکانوں، ہوٹلوں اور مالوں میں نصب سائن بورڈز پر 60 فیصد کنڑ زبان کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔اس کے لیے دکانداروں کو 28 فروری تک کا وقت دیا گیا ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں دکانوں کا لائسنس منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ بی بی ایم پی کی طرف سے یہ حکم آنے کے بعد لوگوں نے احتجاج شروع کر دیا اور مطالبہ کیا کہ اس حکم کو فوری نافذ کیا جائے۔سی ایم نے کہا تھاکہ ہر کسی کو کنڑ بولنا چاہئے۔کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا نے اکتوبر 2023 میں کہا تھا کہ بہت سی زبانیں بولنے والے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ہیں لیکن ہم سب کو کنڑ بولنا چاہئے۔ تمل ناڈو، کیرالہ، تلنگانہ اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں مقامی زبان سیکھے بغیر زندہ رہنا مشکل ہے، لیکن کرناٹک میں آپ زندہ رہ سکتے ہیں۔ کنڑیگا اپنی زبان سکھانے کے بجائے دوسری ریاستوں کے لوگوں کی زبان سیکھ رہے ہیں۔