کرناٹک کی کانگریس حکومت نے وقف ترمیمی بل کو مسترد کردیا

   

بنگلور میں عوامی سماعت، چیف منسٹر کے سیاسی مشیر نصیر احمد نے بل کے خلاف دلائل پیش کئے، اقلیتی اداروں نے بھی مخالفت کی
حیدرآباد۔یکم؍ اکٹوبر، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کے وقف ترمیمی بل 2024 کا جائزہ لینے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آج کرناٹک کے بنگلور میں عوامی سماعت کا اہتمام کیا۔ کرناٹک کی کانگریس حکومت، مختلف سیاسی پارٹیوں، کرناٹک وقف بورڈ کے علاوہ مختلف تنظیموں اور اداروں کی جانب سے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی سے نمائندگی کی گئی۔ کرناٹک کی کانگریس حکومت نے وقف ترمیمی بل کی مخالفت کرتے ہوئے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔اقلیتی اداروں اور تنظیموں نے بھی بل کے خلاف پارلیمانی کمیٹی کو یادداشت حوالے کی۔ چیف منسٹر سدارامیا کے مشیر سیاسی اور رکن قانون ساز کونسل نصیر احمد نے جگدمبیکا پال کی زیر قیادت مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے روبرو پیش ہوکر حکومت کے موقف سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت ترمیمی بل کی سختی سے مخالفت کرتی ہے اور اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔ بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نصیر احمد نے کہا کہ کرناٹک حکومت نے صاف الفاظ میں ترمیمی بل کو مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترمیمی بل کی تیاری سے قبل مرکزی حکومت کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور سنٹرل وقف کونسل سے مشاورت کرنی چاہیئے تھی۔ مرکزی حکومت نے بل کی پیشکشی کا یکطرفہ فیصلہ کیا ہے اور مسلمانوں سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری کی صورت میں ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول متاثر ہوگا اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دیہات، تحصیل اور ضلع کی سطح پر عوام کے درمیان نااتفاقی پیدا ہوگی اور یہ بل سماج میں پھوٹ پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ نصیر احمد نے کہا کہ وقف دراصل ریاستوں کا موضوع ہے اور اس معاملہ میں مرکز کو مداخلت کا اختیار نہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کے روبرو تلنگانہ حکومت کی جانب سے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کیا گیا۔ 31 ارکان میں 21 ارکان نے سماعت میں شرکت کی۔ نصیر احمد کے مطابق کرناٹک حکومت کے علاوہ اقلیتی اداروں نے بھی تحریری طور پر نمائندگی کرتے ہوئے بل کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت یہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے اور اگر یہ منظور ہوتا ہے تو ملک کے حق میں نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بل کی منظوری کی صورت میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے مشاورت کے بعد لائحہ عمل طئے کیا جائے گا۔1