کرناٹک ہائیکورٹ کا فیصلہ افسوسناک مسلم پرسنل لا بورڈ کا ردعمل

   

نئی دہلی : حجاب کے معاملے میں کرناٹک ہائیکورٹ نے آج جو فیصلہ دیا ہے وہ اسلامی تعلیمات کے خلاف اور شرعی حکم کے مغائر ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے عدالتی فیصلہ پر اپنے ردعمل میں یہ بات کہی اور بتایا کہ آج کا فیصلہ دستور کی دفعہ 51 کے بھی خلاف ہے جو مذہب، نسل ، ذات پات اور زبان کی بنیاد پر ہر قسم کی تفریق کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر محمد وقارالدین لطیفی کے جاری کردہ بورڈ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ جو احکام فرض یا واجب ہوتے ہیں وہ لازم ہوتے ہیں اور اُن کی خلاف ورزی گناہ ہے۔ اِس لحاظ سے حجاب لازمی حکم ہے۔ اگر کوئی اِس حکم پر عمل نہ کرے تو وہ گناہگار ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ حجاب اسلام کا لازمی حکم نہیں ہے۔ یہ بیان بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کے ردعمل کی روشنی میں جاری کیا گیا ہے۔ مولانا رحمانی نے کہاکہ بہت سے مسلمان اپنی کوتاہی اور غفلت کی وجہ سے شریعت کے بعض احکام میں تساہل سے کام لیتے ہیں۔