کرنسی تنسیخ کے بعد جعلی نوٹوں پر قابو پانے کا دعویٰ غلط ثابت

   

سال 2021 میں 20 کروڑ 21 لاکھ روپئے کی جعلی کرنسی ضبط ، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو میں انکشاف
حیدرآباد۔21۔ڈسمبر(سیاست نیوز) مودی حکومت نے 2016میں کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے ساتھ اس کے فوائد بتاتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا 1000 اور 500کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور نئے نوٹ بازار میں لائے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں ملک میں جعلی کرنسی کے چلن پر قابو پانے میں کامیابی حاصل ہوگی لیکن حکومت کا یہ دعویٰ کس حد تک درست ثابت ہوا ہے اس کا جائزہ لینا ہوتو سال گذشتہ ملک بھر میں ضبط کی گئی جعلی کرنسی کے اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے جس میں کوئی نمایاں کمی نہیں ہوئی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ملک بھر میں سال 2021کے دوران 20کروڑ 21لاکھ روپئے کی جعلی کرنسی ضبط کی گئی ہے جو کہ 3لاکھ 10ہزار کرنسی نوٹوں پر مشتمل ہے۔کرنسی تنسیخ کے جو فائدے گنوائے گئے تھے ان میں جعلی کرنسی کے چلن کا خاتمہ شامل تھا لیکن اگر کرنسی تنسیخ سے 5سال قبل کے دوران یعنی 2011تا2015 میںضبط کئے جانے والے کرنسی نوٹ کی مالیت اور کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد یعنی 2017تا2021 کے دوران ضبط کی گئی کرنسی کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جعلی کرنسی کے چلن میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی ہے اور نہ ہی اس پر قابو پایا جاسکا ہے۔ 2020کے دوران ضبط کئے گئے کرنسی نوٹ کے متعلق جو تفصیلات رپورٹ میں درج ہیں ان کے مطابق سال 2020کے دوران ملک بھر میں 92کروڑ 17لاکھ روپئے ضبط کئے گئے تھے ۔سال 2011 سے 2015کے دوران مجموعی اعتبار سے سالانہ 39.50 کروڑ ضبط کئے جاتے رہے ہیں اور سال 2016 میں کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد 2017 سے 2021 کے درمیان سالانہ 36کروڑ 80 لاکھ روپئے مالیت کی جعلی کرنسی ضبط کی جاتی رہی ہے۔ سال 2016کے دوران کی گئی ضبطی کے سلسلہ میں تفصیلات کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوئی ہے کہ سال 2016 میں جعلی کرنسی جو ضبط کی گئی تھی اس کی مالیت 15کروڑ92 لاکھ تھی ۔ ماہرین معاشیات کے مطابق ملک میں جعلی کرنسی کی ضبطی کے معاملہ میں جو اعداد و شمار سامنے آرہے ہیں اور جس انداز میں کرنسی کے چلن میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اسے دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ جن دعوؤں کے ساتھ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کو درست قرار دینے کی کوشش کی جارہی تھی وہ تمام بے معنی ثابت ہونے لگے ہیں اور کرنسی تنسیخ مجموعی اعتبار سے جعلی کرنسی کے چلن پر قابو پانے کے اقدامات کے طور پر ناکام ہوچکی ہے۔م