امکانی وزراء اور اضلاع کے بارے میں سوشل میڈیا میں قیاس آرائیاں عروج پر
حیدرآباد 28 مارچ (سیاست نیوز) ایک طرف کرکٹ کے آئی پی ایل میچس کے آغاز کے ساتھ ہی سٹہ بازوں کی سرگرمیوں اور بٹنگس کا آغاز ہوچکا ہے تو دوسری طرف تلنگانہ کابینہ کی توسیع کے مسئلہ پر بھی سیاسی بٹنگ عروج پر ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے اپریل کے پہلے ہفتہ میں کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے تاہم یہ طے نہیں ہے کہ کیا تمام 6 مخلوعہ وزارتی نشستوں کو پُر کیا جائے گا یا پھر قیاس آرائیوں کے مطابق صرف 4 وزراء کی شمولیت ہوگی۔ وزراء کی تعداد کے علاوہ امکانی وزراء کے ناموں کے بارے میں بھی پارٹی حلقوں میں قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں امکانی وزراء کے طور پر تقریباً 8 ارکان اسمبلی اور کونسل کے نام وائرل کئے جارہے ہیں لیکن اِس بارے میں چیف منسٹر آفس یا پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے سرکاری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ کی نئی انچارج میناکشی نٹراجن سے پارٹی کے ارکان اسمبلی نے ربط قائم کرتے ہوئے امکانی وزراء کے ناموں کے بارے میں استفسار کیا لیکن میناکشی نٹراجن کا کہنا تھا کہ ہائی کمان نے دہلی میں تلنگانہ قائدین کے ساتھ ملاقات میں فیصلہ کرلیا ہے جسے برسرعام نہیں کیا جاسکتا۔ وزارت میں توسیع اور امکانی وزراء کے ناموں کے سلسلہ میں پارٹی حلقوں میں بے چینی کو دیکھتے ہوئے سٹہ باز بھی متحرک ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سیاسی بٹنگ کے ذریعہ امکانی وزراء کے بارے میں نئی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ 1
کابینہ میں شامل کئے جانے والے طبقات اور اضلاع کے بارے میں صورتحال غیر واضح ہے۔ نلگنڈہ ضلع سے کومٹ ریڈی راج گوپال ریڈی، ضلع رنگاریڈی سے مال ریڈی رنگاریڈی، متحدہ عادل آباد ضلع سے جی ویویک اور پریم ساگر راؤ کے نام سوشل میڈیا میں زیرگشت ہیں جبکہ پارٹی کے سینئر قائدین کا ماننا ہے کہ حقیقی وزراء کی فہرست ہائی کمان حلف برداری سے ایک دن قبل روانہ کرے گا۔1