چیف منسٹر کے بیان پر ٹی ہریش راؤ بی آر ایس رکن اسمبلی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے سینئیر رکن اسمبلی سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کسانوں کے قرض معافی کو دھوکہ اور دغا بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر نے کسانوں کو دھوکہ دیا ہے ۔ لہذا وہ کسانوں سے معذرت خواہی کریں اور استعفیٰ کس کو دینا ہے اس پر غور کریں ۔ چیف منسٹر کی جانب سے انہیں ( ہریش راؤ ) کو استعفیٰ دینے کا مطالبہ کرنے پر سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم ’ ایکس ‘ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ ریونت ریڈی متحدہ آندھرا پردیش کی تاریخ کے سب سے بڑے دھوکہ باز چیف منسٹر ہے ۔ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ سونیا گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر کسانوں کے 40 ہزار کروڑ روپئے کے قرض یکمشت میں معاف کردئیے جائیں گے ۔ اس وعدے کو انہوں نے پورا نہیں کیا ۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران پھر ایک مرتبہ ڈرامہ کرتے ہوئے 15 اگست تک کسانوں کے 31 ہزار کروڑ روپئے معاف کرنے کا وعدہ کیا ۔ اس طرح چند دنوں میں کسانوں کے قرض میں 9 ہزار کروڑ روپئے کی کٹوتی کردی گئی ۔ اس طرح انہوں نے عوام بالخصوص کسانوں کو بھروسہ دلانے کے لیے بھگوانوں کی اور سونیا گاندھی کی قسم کھائی ۔ 2
بی آر ایس کے دور حکومت میں ہم نے پہلی مرتبہ ایک لاکھ روپئے تک کسانوں کے قرض معاف کیا تھا ۔ 35 لاکھ کسانوں کے قرض معاف کرنے پر 17 ہزار کروڑ روپئے خرچ ہوئے تھے ۔ کانگریس حکومت کی جانب سے کسانوں کے دو لاکھ روپئے تک قرض معاف کیا گیا تو کیا کسانوں کی تعداد صرف 22 لاکھ ہوگی اور اس پر 17,869 کروڑ روپئے خرچ کیسے ہوں گے استفسار کیا ؟ اس کا جائزہ لینے پر اندازہ ہوگا کہ قرض معافی دھوکہ ہے ۔ چیف منسٹر کی وعدہ خلافی سے جھوٹ بھی شرما رہا ہے ۔۔ 2