آرمور 3 ستمبر( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز): بی آر ایس نظام آباد ضلع صدر و آرمور کے سابق رکن اسمبلی آشناگری جیون ریڈی نے کانگریس حکومت کو کسانوں کے مسائل کے معاملہ میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے انتخابات سے قبل کسانوں سے کیے گئے وعدوں کو فراموش کردیا ہے اور کسان مختلف مسائل سے دوچار ہیں۔آرمور میں منعقدہ کسان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ ورنگل کسان ڈیکلریشن کو نظرانداز کردیا گیا ہے۔ کسان بندھو، کسان بیمہ، فصلوں کی خریداری اور بونس جیسی اسکیموں پر بھی مناسب توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے قرض معافی کے وعدے پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں نقلی بیجوں کا مسئلہ دوبارہ پیدا ہوگیا ہے اور کئی علاقوں میں یوریا سمیت دیگر کھاد کی قلت ہے۔ کسانوں کو وقت پر کھاد نہ ملنے سے مشکلات بڑھ رہی ہیں۔جیون ریڈی نے الزام عائد کیا کہ زرعی شعبہ کو مناسب بجلی فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق کھیتوں کو صرف 8 تا 12 گھنٹے بجلی ملنے سے فصلیں متاثر ہورہی ہیں اور کئی مقامات پر فصلیں خشک ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت کے دور میں آبپاشی پراجکٹوں اور دیگر اقدامات کے نتیجہ میں زرعی شعبہ میں نمایاں ترقی ہوئی تھی۔ کالیشورم اور پالامورو۔رنگاریڈی جیسے آبپاشی پراجکٹوں کے ذریعہ لاکھوں ایکڑ اراضی کو پانی فراہم کیا گیا۔22-A ممنوعہ اراضی کے معاملہ میں بھی جیون ریڈی نے حکومت پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں اور عام لوگوں کی اراضی کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔ انہوں نے نندی پیٹ منڈل میں اس مسئلہ کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔پولیس کے رویہ پر بھی انہوں نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس کارکنوں کو ہراساں کیا جارہا ہے اور بعض پولیس عہدیدار حکمران جماعت کے دباؤ میں کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل پر بی آر ایس کی جدوجہد جاری رہے گی۔اس پروگرام میں سابق ضلع پریشد چیئرمین وٹھل راؤ کے علاوہ بی آر ایس قائدین اور کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔