گاؤں گاؤں میں ان قوانین کے خلاف قرار داد منظور کرنے کی ہریش راؤ نے عوام سے اپیل کی
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے زرعی بلز سے دستبرداری تک ٹی آر ایس اپنے احتجاج کو جاری رکھے گی ۔ توپران میں منعقدہ احتجاج میں ہریش راؤ نے شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ریاست تلنگانہ کے ہر گاؤں میں مرکز کے زرعی قوانین کے خلاف قرار داد منظور کرنے کا عوام اور کسان تنظیموں کو مشورہ دیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ ملک میں 53 سال سے عمل ہونے والے اقل ترین قیمت کو بی جے پی حکومت ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ لال بہادر شاستری اور بابو جگجیون رام کی جانب سے اقل ترین قیمت کی اسکیم متعارف کی گئی جس کو مودی حکومت ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ سوامی ناتھن کمیشن نے کسانوں کو سرمایہ کاری کے ساتھ اقل ترین قیمت دینے کی سفارش کی ہے ۔ جس پر عمل کیا جارہا ہے جس کی بی جے پی مخالفت کررہی ہے ۔ کارپوریٹ اداروں کو فائدہ پہونچانے کیلئے غریب کسانوں کے مفادات کو نقصان پہونچایا جارہا ہے ۔ ریاست میں باریک چاول کی کاشت کرنے والے کسانوں کو نقصان پہونچانے کی مرکزی حکومت کوشش کررہی ہے جس کی ٹی آر ایس سخت مخالفت کرتی ہے ۔ کسانوں سے ٹکرانے والی بی جے پی حکومت بہت جلد زوال پذیر ہوجانے کی ہریش راؤ نے پیش قیاسی کی ہے ۔ ریاستی وزیر فینانس نے کہا کہ ملک میں 23 اقسام کی کاشت کو اقل ترین قیمت کے ساتھ خریدا جاتا ہے ۔ کسان اقل ترین قیمت میں اضافہ کا مطالبہ کررہے ہیں تاہم مودی حکومت اقل ترین قیمت کے نظام کو ہی برخاست کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے قائدین زرعی قوانین کو ایک انقلاب قرار دے رہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ کسانوں کے لیے نقصانات کا باعث بن رہے ہیں ۔ احتجاج کرنے والے کسانوں پر لاٹھیاں برسائی جارہی ہیں ان پر واٹر کینن کے ذریعہ پانی ڈالا جارہا ہے ۔ کسان دشمن قوانین کے خلاف خواتین ، بچے ، بوڑھے ، سردی کی پرواہ کئے بغیر احتجاج کررہے ہیں ۔ اس احتجاج پر برطانیہ کے وزیراعظم اور بی بی سی نیوز نے ردعمل کا اظہار کیا ۔ مگر مرکزی حکومت تماشہ دیکھ رہی ہے ۔۔