نئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ نے جموں و کشمیر کے تین طلباء کے مقدمہ کی سماعت چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ، آگرہ کی عدالت سے سی جے ایم، سہارنپور کی عدالت میں منتقل کردیا ہے۔ جسٹس اوم پرکاش ترپاٹھی نے طالب علموں کی جانب سے منتقلی کی درخواست پر یہ حکم جاری کیا، جن کے وکیل نے عدالت کے سامنے پیش کیا کہ آگرہ ڈسٹرکٹ بار اسوسی ایشن نے فیصلہ کیا ہیکہ اس کا کوئی بھی رکن درخواست گزاروں کا دفاع نہیں کرے گا۔ طلباء جو سبھی آگرہ کے ایک انجینئرنگ کالج کے طالب علم ہیں، ان پر الزام لگایا گیا ہیکہ انہوں نے2021 میں ہندوستان کے خلاف ٹی20 کرکٹ ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستان کی جیت کے بعد پاکستان کے حق میں نعرے لگائے تھے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے یہ بھی کہا کہ مؤخر الذکر پر بغاوت کا الزام ہے۔ اس لیے آگرہ میں مقدمے کی سماعت ہونے پر انہیں تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔ عنایت الطاف شیخ اور دیگر کی جانب سے دائر کی گئی منتقلی کی درخواست کی اجازت دیتے ہوئے عدالت نے مندرجہ بالا ہدایات جاری کیں۔ اور کہا کہ درخواست گزاروں کی درخواست کو مدنظر رکھتے ہوئے اورمقدمہ کے حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے مقدمہ کو منتقل کرنا مناسب سمجھا۔ جرم نمبر 675/2021، سیکشن 153A (مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 505(1)(b) 124A (غداری) انڈین پینل کوڈ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 66 ایف کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔