سرینگر: وادی کشمیر میں گرچہ موسم خشک ہے تاہم شہنشاہ زمستان چلہ کلان اپنے طاقت کا بھرپور مظاہرہ کرکے لوگوں کو ٹھٹھرتی سردیوں سے دو چار کر رہا ہے ۔دریں اثنا محکمہ موسمیات نے وادی میں برف و باراں کے ایک اور مرحلے کی پیش گوئی کی ہے ۔متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان کے مطابق وادی میں 6 جنوری تک موسم خشک رہنے کا امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ بعد میں 7 جنوری سے موسم ابر آلود رہ سکتا ہے اور اس دوران 8 سے 10 جنوری تک وادی میں برف باری متوقع ہے ۔ادھر وادی میں شبانہ درجہ حرارت میں قدرے بہتری درج ہونے کے باوجود بھی ٹھٹھرتی سردیوں کا زور برا بر جاری رہا۔گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی5.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔سری نگر میں 25 دسمبر کو رواں سیزن کی سرد ترین رات ریکارڈ ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی5.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی9.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی10.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا درجہ حرارت منفی9.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی4.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کا کم سے کم درجہ حرارت منفی5.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی5.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب بھی یہی درجہ حرارت درج ہوا تھا۔لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی17.2 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی14.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔بتادیں کہ وادی میں شہنشاہ زمستان چالیس روزہ چلہ کلان بر سر اقتدار ہے اس کا دور اقتدار 21 دسمبر کو شروع ہو کر 31 جنوری کو اختتام پذیر ہوجاتا ہے ۔اس کے بعد بیس روزہ چلہ خورد تخت نشین ہوتا ہے جس کے دور میں سردیوں کی شدت میں بتدریج کمی واقع ہوجاتی ہے ۔
چندی گڑھ گھنے کہرے کی لپیٹ میں
چندی گڑھ: شمال مغربی خطہ میں شدید سردی اور گھنے کہرے کی وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہو گئے ۔ گھنی دھند نے ہوائی، ریل اور سڑکوں کی آمدورفت کو متاثر کیا۔دوپہر کو دھند ختم ہونے کے بعد ٹریفک معمول پر آگیا تاہم حد نگاہ کم ہونے کے باعث یہاں سے کوئی فلائٹ گئی اور نہ ہی یہاں سے جا سکی۔ امرتسر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پروازیں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ تین سے چار روز تک شدید دھند سے راحت کی کوئی امید نہیں ہے ۔ خطے میں انتہائی گھنی دھند کے ساتھ سرد دن اور بعض مقامات پر سردی کی لہر جاری رہنے کا امکان ہے ۔ پنجاب میں بھٹنڈہ کا پارہ ایک ڈگری سیلسیس اور ہریانہ کے سرسا میں تین ڈگری سیلسیس تھا۔ خطے میں بعض مقامات پر کم از کم درجہ حرارت تین سے چار ڈگری سیلسیس کے درمیان رہا۔ چنڈی گڑھ میں صبح کے وقت گھنی دھند چھائی رہی اور دن کے وقت سردی کی وجہ سے سردی میں اضافہ ہوا۔ دوپہر کو ہلکی ہلکی دھوپ نکلی لیکن سردی سے راحت نہ مل سکی۔ شہر میں درجہ حرارت چھ ڈگری رہا۔ امبالہ سات ڈگری، حصار چار ڈگری، کرنال سات ڈگری، کرنال سات ڈگری، روہتک آٹھ ڈگری، نارنول چار ڈگری سیلسیس رہا۔پنجاب میں بھٹنڈہ ایک ڈگری سب سے کم رہا، گورداسپور میں دو ڈگری گرا۔ امرتسر پانچ ڈگری، لدھیانہ پانچ ڈگری، پٹیالہ چار ڈگری، پٹھان کوٹ چھ ڈگری سیلسیس رہا۔ آئندہ چند روز تک سردی اور دھند سے راحت کی کوئی امید نہیں۔